کیلشیم اور بوران کب دینا چاہیے پھل گرنے سے بچانے کا طریقہ

کیلشیم اور بوران کب دینا چاہیے پھل گرنے سے بچانے کا طریقہ


باغبانی اور زراعت میں کسانوں کو درپیش سب سے بڑا اور نقصان دہ مسئلہ پھولوں اور پھلوں کا قبل از وقت گرنا (Flower and Fruit Drop) ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ آم، کنو، لیموں، امرود، ٹماٹر اور مرچ کے پودوں پر پھول تو کثرت سے آتے ہیں، لیکن پھل بننے سے پہلے یا پھل بننے کے ابتدائی مراحل میں ہی وہ گر کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ پودے میں دو اہم صغیرہ و کبیرہ اجزاء یعنی کیلشیم (Calcium) اور بوران (Boron) کی کمی ہے۔

کیمیائی کھادوں میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم (NPK) پر تو بہت توجہ دی جاتی ہے، لیکن کیلشیم اور بوران کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں غذائی اجزاء پودے کی تولیدی صحت، پھولوں کی پولینیشن، اور پھل کے چھلکے کی مضبوطی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیں گے کہ کیلشیم اور بوران پودے کے لیے کیوں ضروری ہیں، انہیں کب اور کس طرح استعمال کرنا چاہیے، اور پھل گرنے کے عمل کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔


1. کیلشیم اور بوران کا پودے میں سائنسی کردار

پودوں کی بہتر نشوونما کے لیے کیلشیم اور بوران کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اگر مٹی میں کیلشیم موجود ہو لیکن بوران غائب ہو، تو پودا کیلشیم کو جذب کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اسی لیے زرعی ماہرین ان دونوں کو ہمیشہ ایک ساتھ یا ایک ہی منصوبہ بندی کے تحت دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

الف) کیلشیم (Ca) کا کردار: پودے کا حفاظتی ڈھانچہ

کیلشیم پودے کے خلیات کی دیواروں (Cell Walls) کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پودے کے خلیات کو آپس میں جوڑنے والے مادے (Pectin) کا لازمی حصہ ہے۔

  • جڑوں کی نشوونما: کیلشیم جڑوں کے سروں (Root Tips) کی تقسیم اور بڑھوتری کے لیے ضروری ہے۔
  • پھل کی مضبوطی: یہ پھل کے چھلکے اور گودے کو سختی اور لچک فراہم کرتا ہے، جس سے پھل پھٹنے (Fruit Cracking) سے محفوظ رہتا ہے۔
  • بیماریوں سے تحفظ: مضبوط خلیاتی دیواروں کی وجہ سے فنگس اور بیکٹیریا پودے پر آسانی سے حملہ نہیں کر سکتے۔

ب) بوران (B) کا کردار: ری پروڈکشن اور پولینیشن کا ضامن

بوران پودوں کے لیے ایک انتہائی اہم صغیرہ عنصر (Micronutrient) ہے۔ اس کا بنیادی کام پودے کے اندرونی نظام کو منظم کرنا ہے۔

  • پولن ٹیوب کی تیاری: پھول سے پھل بننے کے عمل (Pollination) کے لیے پولن ٹیوب کا بننا اور متحرک ہونا ضروری ہے، جو بوران کے بغیر ممکن نہیں۔
  • شکر کی منتقلی: بوران پتوں میں بننے والی خوراک اور شکر کو پودے کے دوسرے حصوں (خصوصاً پھلوں اور جڑوں) تک منتقل کرتا ہے۔
  • کیلشیم کا معاون: یہ پودے کے اندر کیلشیم کی حرکت پذیری کو کنٹرول کرتا ہے۔

2. کیلشیم اور بوران کی کمی کی علامات

جب پودے میں ان دونوں عناصر کی کمی ہوتی ہے، تو پودا مختلف علامات کے ذریعے اس کا اظہار کرتا ہے:

کیلشیم کی کمی کی علامات:

  1. بلوسم اینڈ روٹ (Blossom End Rot): ٹماٹر، مرچ اور بینگن کے نچلے حصے کالے ہو کر سڑنے لگتے ہیں۔
  2. پتوں کا مڑنا: نئے نکلنے والے پتے کناروں سے نیچے کی طرف مڑ جاتے ہیں اور ان کی شکل بگڑ جاتی ہے۔
  3. پھل کا پھٹنا: لیموں، کنو، انار اور چیری جیسے پھل پکنے سے پہلے ہی درمیان سے پھٹ جاتے ہیں۔
  4. نرم پھل: پھل توڑنے کے بعد بہت جلدی نرم ہو کر خراب ہو جاتا ہے اور اس کی شیلف لائف کم ہو جاتی ہے۔

بوران کی کمی کی علامات:

  1. پھولوں کا گرنا: پولینیشن کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے پھول زرد ہو کر گر جاتے ہیں۔
  2. پھل کی بدشکلی: پھل متناسب شکل کے بجائے ٹیڑھے میڑھے یا اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔
  3. بڑھوتری کا رکنا: پودے کی اوپر والی کونپلیں (Apical Buds) خشک ہو کر مر جاتی ہیں اور پودے کا قد رک جاتا ہے۔

3. کیلشیم اور بوران کب دینا چاہیے؟ (درست وقت اور مراحل)

کھاد کا درست وقت پر استعمال ہی اس کے سو فیصد نتائج فراہم کرتا ہے۔ کیلشیم اور بوران کو پودے کے لائف سائیکل میں درج ذیل تین نازک مراحل پر دینا ضروری ہے:

مرحلہ 1: پھول آنے سے ٹھیک پہلے (Pre-Flowering Stage)

یہ سب سے اہم وقت ہے۔ جب پودے پر پھولوں کی کلیاں بننا شروع ہوں، تو بوران اور کیلشیم کا استعمال کریں۔

  • فائدہ: یہ پولن گرینز کی صحت کو بہتر بناتا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ پھول، پھل میں تبدیل ہوتے ہیں اور پھولوں کے گرنے کی شرح 80 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔

مرحلہ 2: پھل بننے کے فوراً بعد (Early Fruit Set Stage)

جب پھول گر جائیں اور چھوٹے چھوٹے مٹر کے دانے کے برابر پھل بننا شروع ہوں، تو دوسری بار ان کا استعمال کریں۔

  • فائدہ: یہ نوزائیدہ پھل کو گرنے سے روکتا ہے اور خلیات کی تقسیم (Cell Division) کو تیز کرتا ہے، جس سے پھل کا سائز تیزی سے بڑھتا ہے۔

مرحلہ 3: پھل کے سائز بڑھنے کا مرحلہ (Fruit Development Stage)

جب پھل اپنی آدھی جسامت تک پہنچ جائے تو کیلشیم کا ایک اور اسپرے کریں۔

  • فائدہ: یہ پھل کے چھلکے کو لچکدار اور مضبوط بناتا ہے تاکہ اندرونی دباؤ اور گرمی کی وجہ سے پھل پھٹے نہیں۔

4. کیلشیم اور بوران دینے کا بہترین طریقہ (کیسے دیں؟)

کود تتاکو

پودے کے اندر کیلشیم ایک انتہائی سست اور غیر متحرک (Immobile) عنصر ہے۔ یہ مٹی سے جڑوں کے ذریعے جذب ہو کر صرف پانی کے بہاؤ (Transpiration Stream) کے ساتھ اوپر جاتا ہے۔ اگر موسم گرم اور خشک ہو، یا ہوا میں نمی زیادہ ہو تو کیلشیم پتوں اور پھلوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس لیے اس کے استعمال کے دو بنیادی طریقے ہیں:

طریقہ نمبر 1: پتوں پر اسپرے (Foliar Spray) – سب سے موثر طریقہ

چونکہ پھلوں کو کیلشیم کی فوری ضرورت ہوتی ہے، اس لیے پتوں اور پھلوں پر براہ راست اسپرے کرنا مٹی میں ڈالنے سے کہیں زیادہ کارآمد ہے۔

  • کیا استعمال کریں؟ کیلشیم امونیم نائٹریٹ (CAN) یا کیلشیم نائٹریٹ اور اس کے ساتھ بوریکس (Borax) یا سولوبور (Solubor)۔ بازار میں تیار شدہ Calcium-Boron (Ca-B) مائع فارمولے بھی دستیاب ہیں۔
  • مقدار: عام طور پر 2 سے 3 گرام کیلشیم نائٹریٹ اور 1 سے 1.5 گرام بوران فی لیٹر پانی میں حل کر کے اسپرے کریں۔
  • وقت: ہمیشہ صبح سویرے یا شام کے وقت اسپرے کریں جب دھوپ نہ ہو۔

طریقہ نمبر 2: مٹی میں ڈالنا (Soil Application)

کھیت کی تیاری کے وقت یا سالانہ کھاد کے پروگرام کے تحت مٹی میں کیلشیم اور بوران کی بنیاد فراہم کرنا طویل مدتی نتائج دیتا ہے۔

  • کیلشیم کے ذرائع: جپسم (Gypsum)، چونا (Lime) یا سنگل سپر فاسفیٹ۔
  • بوران کے ذرائع: زنک اور بوران مکسڈ دانے دار کھادیں یا بوریکس پاؤڈر (تقریباً 3 سے 5 کلوگرام فی ایکڑ)۔

5. پھل گرنے کی دیگر وجوہات اور ان کا تدارک

صرف کیلشیم اور بوران کی کمی ہی پھل گرنے کا سبب نہیں ہوتی۔ ایک کامیاب باغبان یا کسان بننے کے لیے درج ذیل عوامل پر بھی نظر رکھنی چاہیے:

  1. پانی کا غیر متوازن استعمال: پھول آنے اور پھل بننے کے دوران پودے کو پانی کا جھٹکا (Water Stress) نہیں لگنا چاہیے۔ مٹی میں نہ تو پانی کھڑا ہونا چاہیے اور نہ ہی زمین بالکل خشک ہونی چاہیے۔ نمی کا یکساں تناسب رکھیں۔
  2. شدید درجہ حرارت: بہت زیادہ گرمی یا اچانک سردی پڑنے سے بھی پودا دباؤ میں آ کر پھل گرا دیتا ہے۔ ایسے موسم میں امینو ایسڈز اور ہیومک ایسڈ کا اسپرے پودے کو طاقت دیتا ہے۔
  3. ہارمونز کا عدم توازن: پودے میں قدرتی طور پر پھل کو شاخ سے جوڑے رکھنے والے ہارمونز (جیسے آکسن) کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے نیپتھلین ایسٹک ایسڈ (NAA) یا دیگر پلانٹ گروتھ ریگولیٹرز (PGR) کا مناسب اسپرے کیا جا سکتا ہے۔
  4. کیروں اور فنگس کا حملہ: پھل کی مکھی (Fruit Fly) اور فنگس کے حملے سے بھی پھل اندر سے گل کر گر جاتا ہے۔ اس کے لیے بروقت فنگس کش اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کریں۔

6. کیلشیم اور بوران کے استعمال کی اہم احتیاطی تدابیر

  • بوران کی مقدار میں احتیاط: بوران ایک ایسا عنصر ہے جس کی ضرورت بہت ہی کم ہوتی ہے۔ اگر اس کی مقدار مقررہ حد سے تھوڑی سی بھی زیادہ ہو جائے تو یہ پودے کے لیے زہر (Toxicity) بن جاتا ہے اور پودے کے پتے جل جاتے ہیں۔ اس لیے کبھی بھی تجویز کردہ مقدار سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
  • سخت اور نمکین پانی سے پرہیز: اسپرے کے لیے استعمال ہونے والا پانی صاف اور میٹھا ہونا چاہیے۔ نمکین پانی کھاد کی افادیت کو ختم کر دیتا ہے۔
  • مٹی کا پی ایچ (pH): اگر آپ کی زمین کا پی ایچ 7.5 سے زیادہ ہے، تو مٹی میں ڈالا گیا کیلشیم اور بوران پودے کو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔ ایسی زمینوں میں صرف فولیئر اسپرے پر ہی انحصار کریں۔

نتیجہ

انواع کود سایت

کیلشیم اور بوران کا درست استعمال سبزیوں اور پھلوں کے باغات کی پیداوار بڑھانے کا ایک آزمودہ اور سائنسی نسخہ ہے۔ پھول آنے سے پہلے اور پھل بننے کے ابتدائی مراحل پر ان دونوں کا متوازن اسپرے نہ صرف پھول اور پھل کو گرنے سے بچاتا ہے، بلکہ پھل کے سائز، چمک، ذائقے اور اسٹوریج لائف میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے۔ اپنی فصل کی صحت کے لیے باقاعدگی سے مٹی کا تجزیہ کروائیں اور پانی کے مناسب انتظام کے ساتھ کیلشیم اور بوران کو اپنے فرٹیلائزر پلان کا حصہ بنائیں۔


سوال 1: کیلشیم اور بوران کو ایک ساتھ اسپرے کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

جواب: کیلشیم پودے کے اندر بہت سست حرکت کرتا ہے۔ بوران پودے کے خلیات میں کیلشیم کے جذب ہونے اور اس کی حرکت کو تیز کرتا ہے۔ اس لیے ان دونوں کو ایک ساتھ ملا کر اسپرے کرنے سے کیلشیم پودے کے پھلوں اور کونپلوں تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور بہترین نتائج ملتے ہیں۔

سوال 2: کیا ہم لکڑی کی راکھ اور انڈے کے چھلکوں سے کیلشیم اور بوران کی کمی پوری کر سکتے ہیں؟

جواب: انڈے کے چھلکے کیلشیم کاربونیٹ کا بہترین نامیاتی ذریعہ ہیں اور لکڑی کی راکھ میں پوٹاشیم اور کیلشیم ہوتا ہے۔ لیکن مٹی میں ان کا اثر بہت سست ہوتا ہے۔ گھر کے گملوں کے لیے یہ بہترین ہیں، لیکن تجارتی فصلوں اور باغات میں فوری علاج کے لیے کیلشیم نائٹریٹ اور بوران کا اسپرے ہی سب سے موثر ہے۔

سوال 3: ٹماٹر کے نیچے والے حصے کا کالا ہو کر سڑنا کس چیز کی نشانی ہے؟

جواب: اسے زرعی زبان میں “بلوسم اینڈ روٹ” (Blossom End Rot) کہتے ہیں اور یہ پودے میں کیلشیم کی شدید کمی کی واضح علامت ہے۔ اس سے بچنے کے لیے پودے پر پھل بنتے وقت کیلشیم نائٹریٹ کا اسپرے کریں اور پانی کی نمی کو برقرار رکھیں۔

سوال 4: بوران کی کمی کی وجہ سے پھل پر کیا اثر پڑتا ہے؟

جواب: بوران کی کمی سے پھولوں کی پولینیشن ٹھیک سے نہیں ہوتی جس سے پھول گر جاتے ہیں۔ جو پھل بنتے ہیں وہ ٹیڑھے میڑھے، بدشکل ہو جاتے ہیں اور لیموں یا انار جیسے پھل پکنے کے دوران پھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔

سوال 5: کیا بوران کا اسپرے تیز دھوپ میں کیا جا سکتا ہے؟

جواب: جی نہیں، تیز دھوپ میں بوران یا کسی بھی دوسری کھاد کا اسپرے کرنے سے پانی جلدی اڑ جاتا ہے اور پتوں پر بوران کی تیز مقدار جمع ہو کر پتوں کو جلا دیتی ہے۔ اسپرے ہمیشہ صبح سویرے یا عصر کے بعد ٹھنڈے وقت میں کریں۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *