گنا (Sugarcane) پاکستان اور دنیا کے کئی دیگر ممالک کی ایک اہم ترین نقد آور فصل (Cash Crop) ہے۔ یہ ملک کی چینی کی صنعت (Sugar Industry) کے لیے خام مال فراہم کرنے کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ چونکہ گنا ایک طویل دورانیے کی فصل ہے جو زمین میں تقریباً 10 سے 12 ماہ تک کھڑی رہتی ہے، اس لیے اسے دیگر موسمی فصلوں (جیسے گندم یا چاول) کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوراک اور غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں گنے کی اوسط پیداوار 600 سے 700 من فی ایکڑ ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں جدید زرعی طریقوں اور متوازن کھادوں کے استعمال سے یہ پیداوار 1200 سے 1500 من فی ایکڑ تک حاصل کی جا رہی ہے۔ ہمارے کسانوں کی کم پیداوار کی سب سے بڑی وجہ کھادوں کا غیر متوازن استعمال اور انہیں غلط وقت پر ڈالنا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم سائنسی اصولوں کی روشنی میں گنے کی فصل کے لیے ضروری کھادوں، ان کی صحیح مقدار، ڈالنے کے بہترین اوقات اور جدید طریقوں پر بات کریں گے تاکہ آپ اپنی پیداوار کو دوگنا کر سکیں۔
گنے کی فصل کی غذائی ضروریات اور مٹی کی صحت
گنے کا پودا زمین سے بہت زیادہ مقدار میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جذب کرتا ہے۔ اگر زمین کو یہ غذائی اجزاء مصنوعی کھادوں اور نامیاتی مادوں کے ذریعے واپس نہ کیے جائیں تو مٹی کی زرخیزی تیزی سے ختم ہونے لگتی ہے۔
1. نائٹروجن (Nitrogen – N)
نائٹروجن گنے کی بڑھوتری، پتوں کے پھیلاؤ اور گنے کی لمبائی و موٹائی کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ یہ پودے میں سبز مادہ (Chlorophyll) بناتی ہے جو سورج کی روشنی سے خوراک بنانے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ نائٹروجن کی کمی سے گنے کے پتے پیلے پڑ جاتے ہیں اور تنے پتلے رہ جاتے ہیں۔ تاہم، اس کی زیادتی سے گنے میں چینی کی مقدار (Sucrose Content) کم ہو جاتی ہے اور فصل گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
2. فاسفورس (Phosphorus – P)
فاسفورس جڑوں کی گہری نشوونما اور گنے کے ملاپ (Tiller formation) کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ گنے کے مڈھوں (Ratoon) کو اگلی فصل کے لیے مضبوط بناتی ہے۔ فاسفورس کو ہمیشہ بوائی کے وقت مٹی میں ڈالنا چاہیے کیونکہ یہ مٹی میں بہت آہستہ حرکت کرتی ہے۔
3. پوٹاشیم (Potassium – K)
پوٹاشیم گنے کی کوالٹی، چمک اور وزن بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ گنے کے رس میں شوگر ریکوری (Sugar Recovery) کے تناسب کو بہتر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، پوٹاشیم پودے کو گرمی کی شدت، خشک سالی اور مختلف بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرتی ہے۔
4. مائیکرو نیوٹرینٹس (زنک، بورون اور سلفر)
بنیادی کھادوں کے ساتھ ساتھ گنے کو زنک، بورون اور سلفر جیسے چھوٹے اجزاء کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سلفر مٹی کی تیزابیت (pH) کو متوازن رکھتا ہے اور کھادوں کی دستیابی کو بڑھاتا ہے، جبکہ زنک پودے کے قد کو بڑھانے والے ہارمونز کو متحرک کرتا ہے۔
گنے کے لیے کھاد کا مکمل شیڈول: کب اور کتنی کھاد ڈالیں؟
گنے کی فصل کو کھاد دینے کے عمل کو چار اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ذیل میں اوسط زرخیز زمین کے لیے کھاد کا ایک سائنسی شیڈول دیا گیا ہے:
| مرحلہ | وقت (دن) | تجویز کردہ کھاد اور مقدار (فی ایکڑ) | مقصد اور فائدہ |
|---|---|---|---|
| زمین کی تیاری (بنیادی خوراک) | بوائی کے وقت | 1.5 سے 2 بوری ڈی اے پی (DAP) + 1 بوری ایس او پی (SOP) | جڑوں کی مضبوطی اور ابتدائی شگوفہ سازی۔ |
| ابتدائی نشوونما کا مرحلہ | بوائی کے 45 سے 60 دن بعد | 1 بوری یوریا یا 2 بوری امونیم سلفیٹ | پودے کے قد اور پتوں کے پھیلاؤ میں اضافہ۔ |
| شگوفہ سازی کا عروج (Tillering) | بوائی کے 90 سے 100 دن بعد | 1 بوری یوریا + 10 کلو گرام زنک سلفیٹ (33٪) | نئے شگوفے بنانا اور تنے کو موٹا کرنا۔ |
| بڑھوتری کا درمیانی مرحلہ | بوائی کے 130 سے 150 دن بعد | 1 بوری یوریا + 0.5 بوری ایس او پی (فلڈ کریں) | گنے کی لمبائی اور رس میں چینی کی مقدار بڑھانا۔ |
پہلا مرحلہ: زمین کی تیاری اور بوائی کا وقت (بنیادی خوراک)
گنے کی کاشت کے وقت زمین کی گہری تیاری بہت ضروری ہے۔ چونکہ گنے کی جڑیں زمین میں کئی فٹ گہری جاتی ہیں، اس لیے فاسفورس اور پوٹاش کی پوری مقدار بوائی کے وقت ہی زمین میں ڈال دینی چاہیے۔
- طریقہ کار: گنے کے لیے بنائی گئی کھیلوں (Furrows) کے اندر ڈی اے پی (DAP) اور ایس او پی (SOP) کا چھٹا کریں۔ اس کے اوپر گنے کے سمیر (Sets) رکھیں اور مٹی سے ڈھانپ دیں۔
- فائدہ: اس طریقے سے جڑوں کو اگنے کے فوراً بعد فاسفورس مل جاتی ہے، جس سے جڑوں کا جال تیزی سے پھیلتا ہے اور پودا شروع سے ہی صحت مند رہتا ہے۔
دوسرا مرحلہ: پہلا نائٹروجن کا استعمال (ابتدائی بڑھوتری)
گنے کی کاشت کے تقریباً 45 سے 60 دن بعد، جب پودے زمین سے باہر نکل آتے ہیں اور ان کے پتے کھل جاتے ہیں، تو انہیں نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
- طریقہ کار: اس مرحلے پر ایک بوری یوریا کا استعمال کریں۔ اگر زمین کلراٹھی یا سخت ہے، تو یوریا کی جگہ امونیم سلفیٹ کو ترجیح دیں۔ نائٹروجن ڈالتے وقت کھیت میں نمی کا ہونا لازمی ہے۔ کھاد ڈالنے کے فوراً بعد پانی لگائیں تاکہ نائٹروجن ضائع نہ ہو۔
تیسرا مرحلہ: دوسرا نائٹروجن اور مائیکرو نیوٹرینٹس (شگوفہ سازی)
بوائی کے 90 سے 100 دن بعد کا مرحلہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس وقت گنے کا پودا اپنے مڈھ سے نئے شگوفے (Tillers) نکال رہا ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ اور صحت مند شگوفے بنیں گے، پیداوار اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
- طریقہ کار: اس مرحلے پر ایک بوری یوریا کے ساتھ 10 کلو گرام زنک سلفیٹ ملا کر ڈالیں۔ زنک سلفیٹ گنے کی پوریاں (Internodes) لمبی کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے گنے کی لمبائی تیزی سے بڑھتی ہے۔
چوتھا مرحلہ: آخری نائٹروجن اور پوٹاش کی قسط (گرمی کا موسم)
جون اور جولائی کے مہینوں میں گنے کی فصل تیزی سے قد بڑھاتی ہے۔ اس مرحلے پر پودے کو اپنی زندگی کی سب سے زیادہ نائٹروجن اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- طریقہ کار: جولائی کے وسط تک نائٹروجن کی آخری قسط (ایک بوری یوریا) لازمی مکمل کر لیں۔ اس کے ساتھ آدھی بوری پوٹاش (SOP) پانی کے ساتھ فلڈ کریں۔
- سائنسی وجہ: جولائی کے بعد نائٹروجن ڈالنے سے گنے کی بڑھوتری تو جاری رہتی ہے لیکن اس میں چینی بننے کا عمل رک جاتا ہے، جس سے گنے کا وزن کم ہو جاتا ہے اور مل مالکان شوگر ریکوری کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔
مڈھ گنے (Ratoon Crop) کے لیے کھاد کا خصوصی انتظام

اگر آپ گنے کی پہلی کٹائی کے بعد اسی مڈھ سے دوسری فصل (Ratoon Sugarcane) لے رہے ہیں، تو کھاد کا انتظام مختلف ہوگا:
- فوری نائٹروجن: کٹائی کے فوراً بعد مڈھوں کو اگنے کے لیے نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے کٹائی کے بعد پہلے پانی کے ساتھ ہی ایک بوری یوریا ڈالیں۔
- فاسفورس کا اضافہ: چونکہ مڈھ گنے کی جڑیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں، لیکن پرانی ہو چکی ہوتی ہیں، اس لیے جڑوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ڈی اے پی کی مقدار عام فصل سے 20 فیصد زیادہ رکھیں۔
- مڈھ تراشنے کے بعد کی دیکھ بھال: مڈھ تراشنے والے آلے (Ratoon Shaver) کے استعمال کے فوراً بعد کھاد ڈالیں تاکہ نئی شاخیں تیزی سے نکلیں۔
گنے کی پیداوار بڑھانے کے جدید زرعی طریقے
1. چیپلنگ اور نامیاتی کھاد کا استعمال (Organic Matter)
گنے کی فصل مٹی کو بہت زیادہ تھکا دیتی ہے۔ اس لیے ہر سال بوائی سے پہلے کم از کم 10 سے 15 ٹن فی ایکڑ گوبر کی گلی سڑی کھاد یا پریس مڈ (Press Mud – جو شوگر ملز سے حاصل ہوتی ہے) زمین میں ملائیں۔ پریس مڈ نامیاتی مادے اور فاسفورس کا ایک بہترین اور سستا ذریعہ ہے۔
2. گہرے ہل کا استعمال (Chisel Ploughing)
گنے کی جڑیں زمین میں چار فٹ گہرائی تک جا سکتی ہیں۔ اگر زمین کے نیچے سخت تہہ (Hard Pan) موجود ہوگی، تو جڑیں پھیل نہیں سکیں گی۔ بوائی سے پہلے چزل ہل (Chisel Plough) چلا کر زمین کی سخت تہہ کو توڑیں تاکہ جڑیں گہرائی سے غذائی اجزاء حاصل کر سکیں۔
3. فرٹیگیشن (Fertigation)
روایتی چھٹے کے بجائے کھادوں کو پانی کے ساتھ فلڈ کرنا یا مائع کھادوں کا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔ اس سے کھاد براہ راست پودے کی جڑوں تک پہنچتی ہے اور اس کا ضیاع کم سے کم ہوتا ہے۔
گنے میں کھاد ڈالتے وقت کسانوں کی 5 بڑی غلطیاں
- دیر سے نائٹروجن (یوریا) ڈالنا: بہت سے کسان اگست اور ستمبر میں بھی یوریا ڈالتے رہتے ہیں تاکہ گنا ہرا بھرا نظر آئے۔ اس سے گنے میں رس تو بڑھ جاتا ہے لیکن چینی کی مقدار (Purity) بہت گر جاتی ہے اور گنے کا تنہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
- پوٹاش کو نظر انداز کرنا: ہمارے کاشتکار پوٹاش کو غیر ضروری خرچ سمجھتے ہیں۔ پوٹاش کے بغیر گنے کا وزن اور اس کی چمک کبھی بھی مثالی نہیں ہو سکتی۔
- خشک زمین میں کھاد کا چھٹا کرنا: خشک مٹی میں یوریا کا چھٹا کرنے سے نائٹروجن گیس بن کر ہوا میں اڑ جاتی ہے۔ ہمیشہ نمی والے کھیت میں کھاد ڈالیں۔
- ڈی اے پی کو اوپر سے ڈالنا: گنے کی فصل اگنے کے بعد اوپر سے ڈی اے پی ڈالنا پیسے کا ضیاع ہے کیونکہ یہ جڑوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ فاسفورس ہمیشہ بوائی کے وقت نیچے۔
- مٹی کا معائنہ نہ کروانا: مٹی کا ٹیسٹ کروائے بغیر اندھا دھند کھادیں ڈالنے سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور متوازن غذائیت نہیں ملتی۔
نتیجہ

گنے کی فصل سے بمپر پیداوار حاصل کرنا کوئی راز نہیں بلکہ ایک منظم سائنس ہے۔ زمین کی تیاری کے وقت ڈی اے پی اور پوٹاش کی بنیادی خوراک، شگوفہ سازی کے دوران زنک اور نائٹروجن کا متوازن ملاپ، اور جولائی کے وسط تک نائٹروجن کی تمام قسطوں کی تکمیل ہی گنے کی پیداوار کو 1000 من فی ایکڑ سے اوپر لے جانے کا عملی طریقہ ہے۔ جدید طریقوں کو اپنا کر اور غلطیوں سے بچ کر کسان نہ صرف اپنی لاگت کم کر سکتے ہیں بلکہ ملک کی چینی کی پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گنے کی فصل میں پوٹاش (SOP) کا استعمال کیوں ضروری ہے؟
پوٹاش گنے کے تنے کو مضبوط کرتی ہے تاکہ فصل تیز ہواؤں سے گرے نہ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ گنے کے رس میں شوگر (چینی) کی مقدار کو بڑھاتی ہے جس سے گنے کا وزن نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
کیا ہم گنے کی فصل میں پریس مڈ (Press Mud) استعمال کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، پریس مڈ گنے کے لیے ایک بہترین نامیاتی کھاد ہے۔ یہ زمین کی مٹی کو نرم کرتی ہے، نامیاتی مادہ بڑھاتی ہے اور اس میں موجود فاسفورس اور دیگر مائیکرو نیوٹرینٹس گنے کی نشوونما کو تیز کرتے ہیں۔
مڈھ گنے (Ratoon) کو عام گنے سے زیادہ کھاد کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
مڈھ گنے کی جڑیں پرانی ہوتی ہیں اور وہ زمین سے پہلے ہی بہت سے غذائی اجزاء جذب کر چکی ہوتی ہیں۔ مڈھوں کو دوبارہ سے نئی شاخیں نکالنے اور جڑیں فعال کرنے کے لیے زیادہ فاسفورس اور فوری نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
گنے میں نائٹروجن (یوریا) کا آخری استعمال کب تک کر لینا چاہیے؟
جواب: گنے کی فصل میں یوریا کا استعمال 15 جولائی تک مکمل کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد نائٹروجن ڈالنے سے گنے کا قد تو بڑھ سکتا ہے لیکن اس کے اندر چینی بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور گنے کا وزن گر جاتا ہے۔
گنے کی پوریاں (Internodes) لمبی کرنے کے لیے کون سا عنصر ضروری ہے؟
جواب: گنے کی پوریاں لمبی کرنے اور گنے کی لمبائی بڑھانے کے لیے زنک (Zinc) اور نائٹروجن کا متوازن ملاپ ضروری ہے۔ شگوفہ سازی کے دوران زنک سلفیٹ کا استعمال اس سلسلے میں بہترین نتائج دیتا ہے۔

منابع
کارشناسان کشاورزی
سایت تتاکو


بدون نظر