گندم پاکستان اور برصغیر کی سب سے اہم غذائی اور نقدی فصل ہے۔ ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کا دارومدار بڑی حد تک گندم کی کامیاب کاشت اور بہتر پیداوار پر ہے۔ گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے زمین کی تیاری، اچھے بیج کا انتخاب اور آبپاشی جتنی اہمیت رکھتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ اہمیت متوازن کھادوں کے صحیح وقت اور درست مقدار پر استعمال کی ہے۔
اکثر زمیندار اور کاشتکار کھادوں پر بھاری سرمایہ کاری تو کرتے ہیں، لیکن مناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کھادوں کا استعمال غلط وقت پر یا غیر متوازن مقدار میں کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا خرچ ضائع ہوتا ہے بلکہ فصل کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم سائنسی اصولوں اور ماہرینِ زراعت کی سفارشات کی روشنی میں بات کریں گے کہ گندم میں کون سی کھاد، کب اور کتنی مقدار میں ڈالنی چاہیے تاکہ آپ اپنی فصل سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔
۱. گندم کی فصل کے لیے بنیادی غذائی اجزاء کی اہمیت
گندم کے پودے کو اپنی نشوونما کے مختلف مراحل میں مختلف اقسام کے غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
بڑے غذائی اجزاء (Macro-nutrients)
- نائٹروجن (Nitrogen – N): یہ پودے کے سبز مادے (کلوروفل) کو بڑھانے، پودے کے قد کاٹھ اور پتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے پودے پیلے پڑ جاتے ہیں اور شگوفے کم بنتے ہیں۔
- فاسفورس (Phosphorus – P): فاسفورس پودے کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے، جڑوں کا پھیلاؤ بڑھاتا ہے اور شروع میں پودے کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ سٹے بننے اور دانوں کے سائز کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہے۔
- پوٹاشیم (Potassium – K): پوٹاشیم پودے کو بیماریوں، گرمی اور خشک سالی کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرتا ہے۔ یہ دانوں کی چمک، وزن اور کوالٹی کو بہتر بناتا ہے۔
چھوٹے غذائی اجزاء (Micro-nutrients)
- زنک (Zinc)، بوران (Boron) اور لوہا (Iron): اگرچہ ان کی بہت کم مقدار درکار ہوتی ہے، لیکن ان کے بغیر گندم کے سٹے میں دانوں کی تعداد اور کوالٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر زنک کی کمی ہمارے ہاں کی زمینوں میں عام ہے۔
۲. زمین کی تیاری اور بوائی کے وقت کھادوں کا استعمال (بیسل ڈوز)
گندم کی بوائی کے وقت دی جانے والی کھادوں کو “بیسل ڈوز” (Basal Dose) کہا جاتا ہے۔ یہ کھادیں پودے کی ابتدائی جڑوں کی نشوونما اور شگوفے بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔
فاسفورس کھاد کا استعمال
فاسفورس زمین میں حرکت نہیں کرتی، اس لیے اسے بوائی کے وقت مٹی میں بیج کی گہرائی کے قریب ڈالنا ضروری ہے تاکہ ننھی جڑیں فوری طور پر اسے جذب کر سکیں۔
- سفارش کردہ مقدار: اوسط زرخیز زمین کے لیے ڈیڑھ سے دو بوری ڈی اے پی (DAP) یا تین سے چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ (SSP) فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کرنی چاہیے۔
- طریقہ کار: اسے زمین کی آخری تیاری کے وقت چھٹہ دے کر مٹی میں ملا دیں یا پھر بوائی کے وقت ڈرل کے ذریعے بیج کے ساتھ ڈالیں۔
پوٹاش کھاد کا استعمال
پوٹاشیم پودے کے خلیات کو مضبوط کرتا ہے تاکہ گندم کی فصل گرنے (Lodging) سے محفوظ رہے۔
- سفارش کردہ مقدار: نصف بوری سے ایک بوری ایس او پی (SOP – Sulphate of Potash) یا ایم او پی (MOP) فی ایکڑ بوائی کے وقت ڈالیں۔
- اہم نکتہ: کلراٹھی یا نمکیات زدہ زمینوں میں ہمیشہ ایس او پی (SOP) کو ترجیح دیں کیونکہ ایم او پی میں موجود کلورائیڈ فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
نائٹروجن کی ابتدائی خوراک
بوائی کے وقت نائٹروجن کی کل ضرورت کا تقریباً ایک تہائی (1/3) حصہ دینا چاہیے۔
- سفارش کردہ مقدار: اگر آپ ڈی اے پی استعمال کر رہے ہیں تو اس میں موجود نائٹروجن ابتدائی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ اگر ایس ایس پی استعمال کر رہے ہیں تو ساتھ میں آدھی بوری یوریا لازمی شامل کریں۔
۳. پہلے پانی پر کھادوں کا استعمال (شگوفے بننے کا مرحلہ)

گندم کی بوائی کے بعد تقریباً ۲۰ سے ۲۵ دن پر پہلا پانی دیا جاتا ہے، جسے زرعی اصطلاح میں “Crown Root Initiation” یا تاج دار جڑوں کا نکلنا کہتے ہیں۔ یہ مرحلہ گندم کے شگوفے (Tillers) بنانے کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے۔
- کون سی کھاد ڈالیں؟ اس مرحلے پر پودے کو نائٹروجن کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے پانی کے ساتھ ایک بوری یوریا فی ایکڑ ڈالنی چاہیے۔
- زنک کا استعمال: اگر زمین میں زنک کی کمی ہو تو پہلے پانی کے ساتھ ۳۳ فیصد والا زنک سلفیٹ ۵ سے ۶ کلوگرام یا ۲۱ فیصد والا زنک سلفیٹ ۱۰ کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کریں یا چھٹہ کریں۔ زنک کا استعمال شگوفوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ کرتا ہے۔
- طریقہ کار: ہلکی زمینوں میں یوریا پانی لگانے کے بعد نم زمین پر (تروتر حالت میں) چھٹہ کرنا زیادہ بہتر نتائج دیتا ہے تاکہ نائٹروجن زمین کی گہرائی میں ضائع نہ ہو۔
۴. دوسرے پانی پر کھادوں کا استعمال (گوبھ سے پہلے کا مرحلہ)
گندم کی بوائی کے ۴۰ سے ۵۰ دن بعد عام طور پر دوسرا پانی دیا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پودا اپنی بڑھوتری کے عروج پر ہوتا ہے اور اس کے تنے مضبوط ہو رہے ہوتے ہیں۔
- یوریا کی دوسری قسط: اس پانی کے ساتھ نائٹروجن کی آخری قسط یعنی ایک بوری یوریا فی ایکڑ دینی چاہیے۔
- سلفر کا استعمال: اس مرحلے پر سلفر (Sulfur) ۲ سے ۳ کلوگرام فی ایکڑ فلڈ کرنے سے نائٹروجن کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور پودے کا رنگ گہرا سبز ہو جاتا ہے۔ سلفر مٹی کی پی ایچ (pH) کو بھی عارضی طور پر کم کرتا ہے جس سے دوسرے غذائی اجزاء پودے کو آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔
۵. گوبھ کا مرحلہ اور بعد کے پانی (سٹے نکلنے کا وقت)
جب گندم کی فصل گوبھ کی حالت (Booting Stage) میں داخل ہوتی ہے، یعنی سٹا پتے کے اندر بن رہا ہوتا ہے (تقریباً ۷۰ سے ۸۵ دن پر)، تو پودے کو اپنی زندگی کے اہم ترین مرحلے کا سامنا ہوتا ہے۔
- بوران (Boron) کا استعمال: اس مرحلے پر بوران ڈسٹ (Boron 20%) کا سپرے (سو گرام فی ۱۰۰ لیٹر پانی) یا زمین میں فلڈ کرنا دانوں کے ملاپ (Pollination) کے عمل کو بہترین بناتا ہے۔ بوران کی وجہ سے سٹے خالی نہیں رہتے اور دانہ پورا بنتا ہے۔
- پوٹاش کا سپرے: اگر بوائی کے وقت پوٹاش کھاد نہیں ڈالی جا سکی، تو گوبھ کے وقت این پی کے (NPK 13:0:46) یا لیکویڈ پوٹاش کا سپرے کرنے سے دانوں کا وزن بڑھتا ہے اور پیداوار میں ۲ سے ۵ من تک کا اضافہ ممکن ہے۔
- احتیاط: گوبھ کے مرحلے کے بعد مٹی میں یوریا (نائٹروجن) کھاد بالکل نہ ڈالیں، کیونکہ اس سے فصل کا قد حد سے زیادہ بڑھ جائے گا، فصل گر جائے گی اور بیماریوں (جیسے کنگی یا Rust) کا حملہ بڑھ جائے گا۔
۶. گندم کے لیے کھاد کا ایک مثالی جدول (پروگرام)
مرحلہ (وقت)پانی کی باریکھاد کی قسم اور مقدار (فی ایکڑ)مقصدبوائی کے وقتکیمیائی تیاری۱.۵ بوری DAP + ۱ بوری SOPجڑوں کی نشوونما اور مضبوط بنیادپہلا پانی (20-25 دن)پہلا پانی۱ بوری یوریا + ۵ کلو زنک سلفیٹ (33%)شگوفوں کی تعداد بڑھانادوسرا پانی (40-50 دن)دوسرا پانی۱ بوری یوریا + ۳ کلو سلفرپودے کے قد اور تنے کی مضبوطیگوبھ کی حالت (75-85 دن)تیسرا پانیبوران اور پوٹاش کا سپرےدانوں کی بھرائی اور پولینیشن
۷. کھاد کے استعمال کو زیادہ موثر بنانے کے جدید طریقے
- مٹی کا تجزیہ (Soil Testing): ہر دو سال بعد اپنے کھیت کی مٹی کا لیبارٹری ٹیسٹ کروائیں۔
- فرٹیگیشن (Fertigation): کھادوں کو پانی کے ساتھ فلڈ کرنا، خاص طور پر نائٹروجن اور پوٹاش کو، چھٹہ دینے سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
- پتوں پر سپرے (Foliar Spray): مائیکرو نیوٹرینٹس (زنک، بوران) کا پتے پر سپرے زمین میں ڈالنے کی نسبت زیادہ جلدی اثر دکھاتا ہے۔
- نامیاتی کھاد کا استعمال: کیمیائی کھادوں کے ساتھ ساتھ گوبر کی گلی سڑی کھاد یا کمپوسٹ کا استعمال زمین کی ساخت کو بہتر بناتا ہے۔
جمعبندی (Conclusion)

گندم کی فصل سے بمپر پیداوار حاصل کرنا کوئی جادو نہیں بلکہ ایک سائنسی عمل ہے۔ اگر آپ بوائی کے وقت فاسفورس اور پوٹاش کی مناسب مقدار ڈالتے ہیں، پہلے اور دوسرے پانی پر نائٹروجن کی قسط وار خوراک پوری کرتے ہیں، اور گوبھ کے وقت زنک، بوران اور پوٹاش کے سپرے کا خیال رکھتے ہیں، تو آپ کی پیداوار یقینی طور پر ۵۰ سے ۶۰ من فی ایکڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
گندم کو یوریا کھاد کتنی بار دینی چاہیے؟
گندم کو یوریا کی مقدار دو سے تین قسطوں میں دینی چاہیے۔ پہلی قسط پہلے پانی کے ساتھ اور دوسری قسط دوسرے یا تیسرے پانی کے ساتھ دی جانی چاہیے تاکہ نائٹروجن کا مؤثر استعمال ہو سکے۔
کیا ڈی اے پی (DAP) بوائی کے بعد ڈالی جا سکتی ہے؟
ڈی اے پی کو بوائی کے وقت زمین میں شامل کرنا سب سے بہترین ہے۔ اگر کسی وجہ سے بوائی کے وقت نہ ڈالی جا سکے، تو پہلے پانی کے ساتھ ڈالی جا سکتی ہے، لیکن اس کا اثر بوائی کے وقت ڈالی گئی کھاد جتنا بہتر نہیں ہوتا۔
گندم کے لیے پوٹاش کی کیا اہمیت ہے؟
پوٹاش پودے کو گرنے سے بچاتی ہے، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے اور دانوں کو وزنی اور چمکدار بناتی ہے۔ گوبھ کے مرحلے پر اس کا استعمال پیداوار بڑھانے میں اہم ہے۔
زنک (Zinc) کا استعمال کب کرنا چاہیے؟
جواب: زنک کا استعمال بوائی کے وقت یا پہلے پانی کے ساتھ کرنا بہترین نتائج دیتا ہے۔ یہ پودے کی ابتدائی نشوونما اور شگوفہ سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مٹی کا تجزیہ کیوں ضروری ہے؟
مٹی کا تجزیہ آپ کو زمین میں موجود کھادوں کی اصلی مقدار بتاتا ہے۔ اس سے آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کتنی کھاد ڈالنی ہے، جس سے آپ کے پیسے بچتے ہیں اور زمین کی زرخیزی بھی برقرار رہتی ہے۔

منابع
کارشناسان کشاورزی
سایت تتاکو


بدون نظر