چاول میں خوشہ بننے کے بعد کون سی کھاد نہایت ضروری ہے؟

چاول میں خوشہ بننے کے بعد کون سی کھاد نہایت ضروری ہے؟


چاول (Rice) دنیا اور بالخصوص پاکستان و ہندوستان کی اہم ترین غذائی اور نقد آور فصل ہے۔ دھان کی کاشت میں سب سے اہم مرحلہ وہ ہوتا ہے جب فصل اپنی نباتاتی نشوونما (Vegetative Growth) مکمل کر کے تولیدی مرحلے (Reproductive Stage) میں داخل ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر پودے کے اندر خوشہ (Panicle) بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

اکثر کاشتکار بھائی خوشہ بننے کے بعد کھادوں کے استعمال پر توجہ نہیں دیتے یا یہ سمجھتے ہیں کہ اب کھاد ڈالنے کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ ایک انتہائی نقصان دہ سوچ ہے۔ سائنسی تحقیق سے ثابت ہے کہ چاول کے دانوں کی بھرائی (Grain Filling)، دانوں کی چمک، وزن اور ٹوٹ پھوٹ سے پاک چاول حاصل کرنے کے لیے خوشہ بننے کے بعد کا مرحلہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ خوشہ بننے کے بعد چاول کو کس کھاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسے کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔


۱. خوشہ بننے کے بعد چاول کے پودے کی جسمانی حالت (Physiological State)

جب چاول کی فصل گوپ کی حالت (Booting Stage) سے گزر کر سٹا یا خوشہ نکال لیتی ہے (Heading Stage)، تو پودے کی جڑوں سے غذائی اجزاء جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے۔

  • اس مرحلے پر پودے کی تمام تر توانائی پتوں، خاص طور پر جھنڈا پتا (Flag Leaf) سے خوراک بنا کر دانوں کی طرف منتقل کرنے پر لگی ہوتی ہے۔
  • جھنڈا پتا (پھول کے بالکل نیچے والا سب سے اوپر کا چوڑا پتا) چاول کے دانے کی بھرائی کے لیے تقریباً ۶۰٪ سے ۷۰٪ خوراک (نشاستہ/کاربوہائیڈریٹس) فراہم کرتا ہے۔
  • اگر اس مرحلے پر پودے کو ضروری غذائی عناصر نہ ملیں، تو جھنڈا پتا وقت سے پہلے پیلا ہو کر مرجھا جاتا ہے، جس سے دانے ادھورے رہ جاتے ہیں اور پیداوار میں شدید کمی واقع ہوتی ہے۔

۲. خوشہ بننے کے بعد سب سے ضروری کھاد: پوٹاشیم (Potassium / K)

چاول میں خوشہ نکلنے کے بعد جس کھاد کی سب سے زیادہ اور فوری ضرورت ہوتی ہے، وہ ہے پوٹاشیم (Potassium)۔ اگرچہ نائٹروجن اور فاسفورس ابتدائی مرحلے کے لیے ضروری ہیں، لیکن آخری مراحل میں پوٹاشیم چاول کے معیار اور وزن کا فیصلہ کرتا ہے۔

الف) چاول میں پوٹاشیم کا کردار (Role of Potassium in Rice)

  1. دانوں کی بھرائی (Grain Filling): پوٹاشیم پودے کے اندر شکر اور نشاستہ (Starch) کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ پتوں میں بننے والی خوراک کو تیزی سے خوشے کے دانوں تک منتقل کرتا ہے، جس سے دانے موٹے اور وزنی ہوتے ہیں۔
  2. خالی دانوں (Chaffy Grains) میں کمی: پوٹاشیم کی موجودگی سے پولینیشن کا عمل بہتر ہوتا ہے، جس سے خوشے کے اندر خالی دانے بننے کی شرح (Sterility) کم سے کم ہو جاتی ہے۔
  3. تنے کی مضبوطی (Lodging Resistance): خوشہ نکلنے کے بعد پودے پر وزن بڑھ جاتا ہے۔ پوٹاشیم تنے کے خلیات کی دیواروں کو مضبوط بناتا ہے جس سے تیز ہوا یا بارش کے دوران فصل گرنے (Lodging) سے محفوظ رہتی ہے۔
  4. بیماریوں اور موسمی تناؤ سے تحفظ: یہ مرحلہ اکثر گرم اور مرطب موسم میں آتا ہے جہاں فنگس کی بیماریاں (جیسے شیتھ بلائٹ یا بلاسٹ) حملہ کرتی ہیں۔ پوٹاشیم پودے کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔

ب) استعمال کا طریقہ اور مقدار (Application Method)

خوشہ نکلنے کے بعد جڑوں کے ذریعے کھاد دینے کا اثر سست ہوتا ہے۔ اس لیے سب سے بہترین اور فوری طریقہ فولیار سپرے (Foliar Spray) ہے۔

  • خالص پوٹاشیم سلفیٹ (SOP – 0-0-50): ۲ کلوگرام پوٹاشیم سلفیٹ کو ۱۰۰ سے ۱۲۰ لیٹر پانی میں حل کر کے فی ایکڑ سپرے کریں۔
  • پوٹاشیم نائٹریٹ (KNO3 – 13-0-46): اگر پودے میں ہلکی پیلاہٹ محسوس ہو رہی ہو تو پوٹاشیم نائٹریٹ کا سپرے زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس میں ۱۳ فیصد نائٹروجن بھی ہوتی ہے جو جھنڈا پتے کو ہرا رکھتی ہے۔ اس کی مقدار بھی ۲ کلوگرام فی ایکڑ رکھی جائے۔

۳. نائٹروجن کا متوازن اور دیرپا استعمال (یوریا کا سپرے)

پیشنهادی برنج تتاکو
پیشنهادی برنج تتاکو

عام طور پر چاول میں خوشہ نکلنے کے بعد زمین میں یوریا ڈالنے سے منع کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پودا دوبارہ نئی شاخیں بنانا شروع کر دیتا ہے اور بیماریاں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن پودے کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے نائٹروجن کی معمولی مقدار سپرے کی شکل میں ضروری ہوتی ہے۔

جھنڈا پتے کی حفاظت (Protecting the Flag Leaf)

اگر خوشہ بننے کے بعد نیچے کے پتے پیلے ہو رہے ہوں اور جھنڈا پتا کمزور نظر آئے، تو پودا اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے دانے سے خوراک واپس لینا شروع کر دیتا ہے۔

  • حل: ۱ سے ۱.۵ کلوگرام یوریا کو ۱۰۰ لیٹر پانی میں ملا کر پوٹاشیم کے ساتھ سپرے کریں۔ یہ سپرے پودے میں کلوروفل (سبز مادہ) کو برقرار رکھتا ہے جس سے ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا عمل آخری وقت تک جاری رہتا ہے۔

۴. بوران (Boron) اور زنک (Zinc): پوشیدہ ضرورت

خوشہ نکلنے کے وقت مائیکرو نیوٹرینٹس کا استعمال پیداوار کو آخری دھکا (Boost) دینے کے لیے لازمی ہے۔

الف) بوران کا کردار

بوران پودے کے تولیدی نظام کا سب سے اہم عنصر ہے۔

  • یہ پولن گرینز (Pollen grains) کو فعال کرتا ہے تاکہ ملاپ کا عمل سو فیصد درست ہو۔
  • یہ دانوں کے درمیان کیلشیم کی منتقلی کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
  • مقدار: ۱۰۰ سے ۱۵۰ گرام بوران (Boron 20%) کا فولیار سپرے خوشہ نکلنے کے آغاز پر کریں۔

ب) زنک کا کردار

اگرچہ زنک بوائی کے وقت ڈالا جاتا ہے، لیکن اگر زمین میں زنک کی کمی ہو تو خوشے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر چلیٹڈ زنک (Chelated Zinc 15%) کا ہلکا سپرے دانوں کی لمبائی اور چمک کو بڑھاتا ہے۔


۵. چاول کے آخری مراحل کا کھاد اور سپرے شیڈول (جدول)

کاشتکاروں کی اسانی کے لیے خوشہ بننے کے بعد کا مکمل سپرے پروگرام درج ذیل ہے:

مرحلہ (Stage)موزوں وقت (Days)کھاد کا فارمولا (فی ایکڑ)طریقہ کاربنیادی فائدہ
گوپ کی حالت (Booting)خوشہ نکلنے سے ۵ دن پہلےپوٹاشیم نائٹریٹ (2 کلو) + بوران (150 گرام)فولیار سپرے (۱۲۰ لیٹر پانی)پولینیشن کو بہتر بنانا اور خوشے کا سائز بڑا کرنا
ملکنگ اسٹیج (Milking Stage)جب دانوں میں دودھ بن رہا ہوپوٹاشیم سلفیٹ (SOP – 2 کلو) + امینو ایسڈفولیار سپرے (۱۲۰ لیٹر پانی)دانوں کا وزن بڑھانا اور چاول کی ٹوٹ پھوٹ کو روکنا
دانے کا سخت ہونا (Dough Stage)کٹائی سے ۱۵ دن پہلےصرف صاف پانی کی آبپاشی (کھاد بند)آبپاشیدانوں کی پکائی اور چمک یکساں کرنا

۶. خوشہ بننے کے بعد عام غلطیاں جن سے بچنا ضروری ہے

ہمارے روایتی کاشتکار اکثر کچھ ایسی غلطیاں کرتے ہیں جن سے کھادوں کا اثر ضائع ہو جاتا ہے اور الٹا نقصان ہوتا ہے:

  1. دیر سے یوریا کا فلڈ کرنا (Late Urea Flooding): خوشہ نکلنے کے بعد زمین میں یوریا ڈالنے سے چاول کے تنے نرم ہو جاتے ہیں، جس سے بیکٹیریل لیف بلائٹ (BLB) اور تنے کے سڑنے کی بیماریاں شدت اختیار کر جاتی ہیں۔
  2. دوپہر کے وقت سپرے کرنا: آخری مراحل میں دھوپ تیز ہوتی ہے۔ دوپہر کے وقت سپرے کرنے سے پتے جھلس سکتے ہیں اور دوائی بخارات بن کر اڑ جاتی ہے۔ سپرے ہمیشہ صبح ۱۰ بجے سے پہلے یا شام ۴ بجے کے بعد کریں۔
  3. پانی کا غلط انتظام: دانوں کی بھرائی کے وقت زمین میں نمی کا ہونا لازمی ہے۔ اگر اس مرحلے پر کھیت بالکل خشک ہو جائے، تو کھادیں اثر نہیں کرتیں اور دانے اندر سے خالی (پوچے) رہ جاتے ہیں۔

حاصل کلام (Conclusion)

انواع کود سایت

چاول کی فصل سے زیادہ سے زیادہ پیداوار اور معیاری دانہ حاصل کرنے کے لیے خوشہ بننے کے بعد کی غذائی ضرورت کو نظر انداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ اس نازک مرحلے پر پوٹاشیم، بوران اور ہلکی مقدار میں نائٹروجن کا فولیار سپرے پودے کی کارکردگی کو عروج پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ سائنسی طریقہ نہ صرف دانوں کے وزن اور چمک میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فصل کو گرنے اور مختلف فنگس کی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ کاشتکار بھائی ان سائنسی اصولوں پر عمل کر کے فی ایکڑ پیداوار میں ۱۰ سے ۱۵ من تک کا واضح اضافہ حاصل کر سکتے ہیں۔


س ۱: کیا خوشہ نکلنے کے بعد ہم پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) کو پانی کے ساتھ فلڈ کر سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، اگر آپ سپرے نہیں کر سکتے تو ۱۰ کلوگرام مائع پوٹاشیم (Liquid Potassium) یا حل پذیر ایس او پی کو پانی کے ساتھ فلڈ کر سکتے ہیں۔ تاہم، سپرے کا اثر زیادہ تیز اور سستا ہوتا ہے۔

س ۲: امینو ایسڈ کا چاول کی آخری حالت میں کیا فائدہ ہے؟

جواب: امینو ایسڈ پودے کے اندر پروٹین کی تیاری کو تیز کرتا ہے اور شدید گرمی یا خشکی کے دباؤ کے خلاف پودے کو طاقت دیتا ہے، جس سے دانوں کی بھرائی کا عمل رکنے نہیں پاتا۔

س ۳: چاول کے دانوں کی چمک اور لمبائی بڑھانے کے لیے کون سا عنصر ذمہ دار ہے؟

جواب: دانوں کی چمک اور یکساں لمبائی کے لیے پوٹاشیم اور زنک کا امتزاج سب سے بہترین کام کرتا ہے۔

س ۴: کیا ہم بوران اور پوٹاشیم کو ملا کر ایک ہی سپرے میں استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، پوٹاشیم سلفیٹ (یا پوٹاشیم نائٹریٹ) اور بوران کو آپس میں ملا کر سپرے کیا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں مل کر پولینیشن اور دانوں کی بھرائی کو تیز کرتے ہیں۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *