پھلوں کے درختوں میں پھول اور پھل بڑھانے والی بہترین کھادیں

پھلوں کے درختوں میں پھول اور پھل بڑھانے والی بہترین کھادیں


پھلوں کے باغات سے بمپر پیداوار حاصل کرنا ہر باغبان اور کاشتکار کا خواب ہوتا ہے۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ درختوں پر یا تو پھول بہت کم آتے ہیں، یا پھر پھول آنے کے بعد گر جاتے ہیں، اور اگر پھل بن بھی جائے تو اس کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے یا وہ پکنے سے پہلے ہی جھڑ جاتا ہے۔ زرعی سائنس کے مطابق، ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ پودوں میں متوازن غذائیت کی کمی، مٹی کی خراب صحت اور کھادوں کا غیر سائنسی وقت پر استعمال ہے۔

پھلوں کے درختوں کو اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر مختلف غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ پھول آنے کے وقت نائٹروجن (یوریا) ڈالیں گے، تو درخت پھل بنانے کے بجائے پتوں اور شاخوں کی بڑھوتری شروع کر دے گا۔ اس کے برعکس، اگر آپ صحیح وقت پر فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم اور بوران کا استعمال کریں گے، تو نہ صرف پھولوں کا جھڑنا بند ہوگا بلکہ پھل کا سائز، چمک اور ذائقہ بھی لاجواب ہو جائے گا۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم سائنسی بنیادوں پر تفصیلی جائزہ لیں گے کہ پھلوں کے درختوں کے لیے بہترین کھادیں کون سی ہیں، وہ پودے کے اندر کیا سائنسی کردار ادا کرتی ہیں اور انہیں کس وقت اور کس طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔


1. پھل دار درختوں کی غذائی ضروریات کا سائنسی اصول

پھلوں کے درختوں میں پھول اور پھل کے عمل کو تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور ہر مرحلے پر پودے کی غذائی ضرورت مختلف ہوتی ہے:

الف) پھول آنے سے پہلے کا مرحلہ (Pre-Flowering Stage)

اس مرحلے پر درخت کو نئے شگوفے اور پھولوں کی کلیاں (Flower Buds) بنانے کے لیے فاسفورس (Phosphorus) اور زنک (Zinc) کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ فاسفورس جڑوں کو مضبوط کرتا ہے اور پودے کے اندر انرجی ٹرانسفر کے عمل کو تیز کرتا ہے، جو پھول لانے والے ہارمونز کو متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ب) پولینیشن اور پھل بننے کا مرحلہ (Pollination & Fruit Set)

پھول سے پھل بننے کا عمل انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر کیلشیم (Calcium) اور بوران (Boron) کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ بوران پولن ٹیوب (Pollen Tube) بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے پولینیشن کا عمل مکمل ہوتا ہے اور نر و مادہ خلیات کا ملاپ کامیاب ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پھول پولینیٹ ہوئے بغیر ہی پیلے ہو کر گر جاتے ہیں۔

ج) پھل کا سائز بڑھنے اور پکنے کا مرحلہ (Fruit Development & Ripening)

جب پھل مٹر کے دانے کے برابر ہو جائے، تو اس کی نشوونما، خلیات کے پھیلاؤ اور شکر کی منتقلی کے لیے پوٹاشیم (Potassium) اور امینو ایسڈز (Amino Acids) کی ضرورت ہوتی ہے۔ پوٹاشیم پھل کے اندر پانی کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور نشاستہ کو شکر میں تبدیل کر کے پھل کا سائز، رنگ، خوشبو اور مٹھاس کو بہتر بناتا ہے۔


2. پودوں کی خوراک کے بنیادی اجزاء (Macronutrients) اور ان کا کردار

یہ وہ بڑی کھادیں ہیں جو درختوں کو زیادہ مقدار میں درکار ہوتی ہیں اور انہیں بنیادی طور پر مٹی کے ذریعے دیا جاتا ہے:

1. فاسفورس کھادیں (DAP، SSP یا MAP)

فاسفورس پودے کے اندر خلیات کی تقسیم (Cell Division) اور توانائی کی منتقلی (ATP Synthesis) کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ جڑوں کا جال پھیلاتا ہے جس سے پودا مٹی کی گہرائی سے دیگر اجزاء جذب کر پاتا ہے۔

  • بہترین ذرائع: ڈی اے پی (DAP)، سنگل سپر فاسفیٹ (SSP)، یا مونو امونیم فاسفیٹ (MAP)۔
  • کب اور کیسے دیں: اسے ہمیشہ سردیوں کے آخر میں (جنوری یا فروری کے آغاز میں) جب درخت خوابیدہ حالت (Dormancy) سے بیدار ہو رہے ہوں، گوڈی کر کے مٹی میں ڈالنا چاہیے۔ اگر مٹی کا پی ایچ (pH) زیادہ ہے تو ایس ایس پی کا استعمال زیادہ موزوں رہتا ہے۔

2. پوٹاشیم کھادیں (SOP یا MOP)

پوٹاشیم کو پودے کا “کوالٹی کنٹرولر” کہا جاتا ہے۔ یہ پودے کے خلیات کے اندرونی دباؤ (Turgor Pressure) کو کنٹرول کرتا ہے، جس سے پھل کا گودا نرم اور رس دار بنتا ہے۔ یہ پھل کی بیرونی جلد کو چمکدار بناتا ہے اور اس کی شیلف لائف (سٹور کرنے کی مدت) میں اضافہ کرتا ہے۔

  • بہترین ذرائع: سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) یا میوریٹ آف پوٹاش (MOP)۔ پھل دار درختوں کے لیے ہمیشہ ایس او پی (SOP) کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ اس میں موجود سلفر پھل کے ذائقے اور خوشبو کو بڑھاتا ہے جبکہ ایم او پی کا کلورائڈ کچھ درختوں کے لیے زہریلا ہو سکتا ہے۔
  • کب اور کیسے دیں: اسے دو قسطوں میں دینا بہترین نتائج دیتا ہے۔ پہلی قسط پھل بننے کے فوراً بعد (جب پھل چھوٹے سائز کا ہو) اور دوسری قسط پھل پکنے سے تقریباً ایک ماہ پہلے دیں تاکہ پھل کا وزن اور مٹھاس زیادہ سے زیادہ ہو سکے۔

3. نامیاتی یا گوبر کی کھاد (Organic Compost)

اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد یا کینچووں کی کھاد (Vermicompost) مٹی کی ساخت کو نرم کرتی ہے، ہوا کی آمد و رفت کو بہتر بناتی ہے اور مٹی میں فائدہ مند بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتی ہے۔

  • استعمال کا طریقہ: دسمبر یا جنوری کے مہینے میں ہر جوان درخت کے گرد تنے سے دور تھالی (Canopy Drip Line) بنا کر 15 سے 30 کلوگرام گوبر کی کھاد مٹی میں اچھی طرح ملا دیں اور ہلکا پانی دے دیں۔

3. پھول اور پھل گرنے سے بچانے والی ثانوی اور صغیرہ کھادیں (Secondary & Micronutrients)

کود تتاکو

صرف بڑی کھادیں ڈالنا کافی نہیں ہوتا۔ پھلوں کے جھڑنے کا اصل تعلق ان مائیکرو نیوٹرینٹس سے ہے جن کی کمی سے پودے کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے:

1. بوران (Boron) – پولینیشن کا ضامن

بوران ایک ایسا عنصر ہے جو پودے میں کیلشیم کے جذب ہونے اور شکر کو پتوں سے پھل کی طرف منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے پھولوں کا پولن بانجھ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پھل بننے سے پہلے ہی پھول گرنے لگتے ہیں۔ اگر پھل بن بھی جائے تو وہ اندر سے سخت ہو جاتا ہے یا اس کی شکل بگڑ جاتی ہے (جیسے سیب یا ناشپاتی میں کارک اسپاٹ کا مسئلہ)۔

  • طریقہ استعمال: پھول آنے سے 15 سے 20 دن پہلے اور پھر پھل بننے کے فوراً بعد 1 سے 1.5 گرام بوران (بوریٹڈ فارمولا) فی لیٹر پانی میں حل کر کے پتوں پر اسپرے کریں۔

2. کیلشیم نائٹریٹ (Calcium Nitrate) – خلیات کا محافظ

کیلشیم پودے کے خلیات کی دیواروں کو جوڑنے والے مادے (Pectin) کا اہم حصہ ہے۔ یہ پھل کی بیرونی جلد کو مضبوط بناتا ہے جس سے وہ فنگس اور کیڑوں کے حملے سے محفوظ رہتی ہے۔ کیلشیم کی کمی سے پھل کی نچلی سطح گلنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ وقت سے پہلے جھڑ جاتا ہے۔

  • طریقہ استعمال: اسے پھل بننے کے ابتدائی مراحل میں مٹی میں فلڈ کیا جا سکتا ہے (10 کلوگرام فی ایکڑ) یا 2 سے 3 گرام فی لیٹر پانی کے حساب سے پتوں پر اسپرے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں موجود نائٹریٹ نائٹروجن پودے کو فوری طور پر جذب ہونے والی نائٹروجن بھی فراہم کرتی ہے۔

3. چیلیٹڈ زنک (Chelated Zinc)

زنک پودے کے اندر آکسن (Auxin) ہارمون کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ آکسن وہ ہارمون ہے جو پودے کے خلیات کی لمبائی اور نئی شاخوں کی بڑھوتری کو کنٹرول کرتا ہے۔ زنک کی کمی سے پتوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے جسے “لٹل لیف” کی بیماری بھی کہتے ہیں۔

  • طریقہ استعمال: بہار کے آغاز میں جب نئی کونپلیں نکل رہی ہوں، پتوں پر چیلیٹڈ زنک کا اسپرے کریں۔

4. امینو ایسڈز اور بائیو اسٹیمولینٹس

امینو ایسڈز پودے کو کسی بھی قسم کے ماحولیاتی تناؤ جیسے کہ اچانک درجہ حرارت کا بڑھ جانا، سردی کی لہر (کورا پڑنا) یا پانی کی کمی سے بچاتے ہیں۔ یہ پودے کے خلیات کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں جس سے پھل کے گرنے کی شرح نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے۔

  • طریقہ استعمال: پھول آنے کے وقت اور پھل کے سائز بڑھنے کے مرحلے پر 2 سے 2.5 ملی لیٹر فی لیٹر کے حساب سے اسپرے کریں۔

4. پھل دار درختوں کے لیے سالانہ کھاد کا سائنسی اسپرے اور فلڈ شیڈول

درختوں کی بہترین نشوونما اور پھل کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے ذیل میں دیے گئے پانچ مرحلوں پر مشتمل شیڈول پر عمل کریں:

مرحلہدرخت کا جسمانی مرحلہتجویز کردہ کھادیں اور طریقہ کارحاصل ہونے والا سائنسی فائدہ
1خوابیدگی کا آخری وقت (جنوری/فروری)20 کلو گوبر کی کھاد + 1 کلو ڈی اے پی (DAP) + 500 گرام سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) فی درخت (مٹی میں)جڑوں کا پھیلاؤ، نئی شاخوں اور پتوں کا متوازن آغاز۔
2پھول آنے سے پہلے (Pre-Bloom)بوران (1.5 گرام/لیٹر) + چیلیٹڈ زنک (1 گرام/لیٹر) کا پتوں پر اسپرےپھولوں کے پولن کو صحت مند بنانا اور ان کی گرنے سے حفاظت۔
3مکمل پھول آنے پر (Full Bloom)اہم ہدایت: اس مرحلے پر کسی بھی قسم کی کھاد یا کیڑے مار دوا کا اسپرے نہ کریں۔ صرف ضرورت کے مطابق ہلکا پانی دیں۔پولینیشن کرنے والے دوست کیڑوں (مکھیوں) کا تحفظ۔
4پھل بننے کے فوراً بعد (Fruit Set)کیلشیم نائٹریٹ (2 گرام/لیٹر) + بوران (1 گرام/لیٹر) کا ہلکا اسپرےپھل کی جلد کو مضبوط کرنا اور ابتدائی جھڑاؤ کو روکنا۔
5پھل کا سائز بڑھنے پر (Fruit Growth)امینو ایسڈ (2 ملی لیٹر/لیٹر) کا اسپرے اور پوٹاشیم (SOP) کا مٹی میں فلڈپھل کا سائز بڑا کرنا، رس اور شوگر کی مقدار بڑھانا۔

5. مٹی کی خصوصیات کا کھاد کے جذب ہونے پر اثر (Soil pH & Chemistry)

کھادوں کا اثر مٹی کی کیمیاوی خصوصیات پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔ اگر آپ کی زمین کا پی ایچ (pH) 7.5 سے زیادہ ہے (جو کہ پاکستان کی اکثر زمینوں کا ہے)، تو مٹی الکلائن (اساسی) ہو جاتی ہے۔

ایسی زمینوں میں فاسفورس، لوہا (Iron)، زنک اور بوران مٹی کے ذرات کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور جڑیں انہیں حاصل نہیں کر پاتیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ:

  • ہیومک ایسڈ کا استعمال کریں: ہیومک ایسڈ مٹی کے پی ایچ کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے اور جڑے ہوئے غذائی اجزاء کو آزاد کرواتا ہے۔
  • فولیئر اسپرے کو ترجیح دیں: مائیکرو نیوٹرینٹس (زنک، آئرن، بوران) کو مٹی میں ڈالنے کے بجائے پتوں پر اسپرے کریں تاکہ پودا انہیں براہ راست جذب کر سکے۔

6. پھلوں کے درختوں میں کھاد دیتے وقت عام غلطیاں جن سے بچنا ضروری ہے

باغبان اکثر نادانی میں کچھ ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جن سے درخت کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچتا ہے:

  • تنے کے بالکل ساتھ کھاد ڈالنا: پودے کی خوراک جذب کرنے والی باریک جڑیں تنے کے قریب نہیں ہوتیں، بلکہ وہ درخت کے پھیلاؤ کے آخری کناروں (Drip Line) کے نیچے مٹی میں ہوتی ہیں۔ کھاد ہمیشہ تنے سے 2 سے 4 فٹ دور دائرے کی شکل میں گود کر ڈالنی چاہیے۔
  • پھول آنے کے دوران یوریا کا زیادہ استعمال: پھول آنے کے مرحلے پر یوریا کا استعمال پودے کو نائٹروجن کی زیادتی کا شکار کر دیتا ہے، جس سے پودا پھل بنانے کے بجائے نئی شاخیں بنانا شروع کر دیتا ہے اور بنے بنائے پھول گرا دیتا ہے۔
  • خشک مٹی میں کھاد ڈالنا: خشک زمین میں تیز کیمیائی کھادیں ڈالنے سے جڑیں جھلس سکتی ہیں۔ کھاد دینے کے فوراً بعد ہلکی آبپاشی لازمی کریں۔
  • پھولوں پر تیز پریشر سے اسپرے: جب درخت پر پھول کھلے ہوں، تو تیز پریشر والے پمپ سے اسپرے کرنے سے پھولوں کے نازک حصے ٹوٹ جاتے ہیں اور پولینیشن کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

انواع کود سایت

پھل دار درختوں سے سالہا سال تک بھرپور اور معیاری پیداوار حاصل کرنے کا راز ان کی متوازن اور بروقت غذائیت میں پوشیدہ ہے۔ سیزن کے آغاز میں فاسفورس اور گوبر کی کھاد سے جڑوں کو مضبوط بنائیں، پھول آنے سے پہلے بوران اور زنک سے پولینیشن کو یقینی بنائیں، اور پھل بننے کے بعد کیلشیم اور پوٹاشیم کا استعمال کر کے پھل کے سائز اور کوالٹی کو لاجواب بنائیں۔ ان سائنسی طریقوں پر عمل کر کے آپ اپنے باغات کی پیداوار کو دگنا کر سکتے ہیں۔


سوال 1: لیموں کے پھول گرنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے اور اس کا فوری حل کیا ہے؟

جواب: لیموں کے پھول گرنے کی سب سے بڑی وجہ پانی کی فراہمی میں بے اعتدالی (بہت زیادہ پانی دینا یا مٹی کو بالکل خشک کر دینا) اور بوران کی کمی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ پھول آنے کے دوران پانی متوازن دیں اور پھول کھلنے سے پہلے بوران (1.5 گرام فی لیٹر) کا ایک اسپرے لازمی کریں۔

سوال 2: کیا ہم گھر کے گملوں میں لگے پھل دار پودوں کو بھی یہ کھادیں دے سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، لیکن گملوں میں مقدار بہت کم رکھنی پڑتی ہے۔ گملوں کے لیے متوازن این پی کے (NPK 20-20-20) آدھا چائے کا چمچ فی گملہ مہینے میں ایک بار دینا بہترین ہے۔ اس کے ساتھ آرگینک ورمی کمپوسٹ کا استعمال مٹی کو زرخیز رکھتا ہے۔

سوال 3: پھل کا سائز بڑا کرنے اور اس میں مٹھاس بڑھانے کے لیے سب سے بہترین کھاد کون سی ہے؟

جواب: پھل کا سائز بڑھانے، اس کا وزن زیادہ کرنے اور اس میں شوگر کی مقدار (مٹھاس) کو بہتر بنانے کے لیے سب سے بہترین کھاد پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) ہے۔ اسے پھل بننے کے بعد مٹی میں فلڈ کیا جاتا ہے یا پتوں پر اسپرے کیا جاتا ہے۔

سوال 4: کیا گوبر کی کچی کھاد درختوں کو دی جا سکتی ہے؟

جواب: ہرگز نہیں۔ تازہ یا کچی گوبر کی کھاد میں امونیا گیس اور حرارت بہت زیادہ ہوتی ہے جو جڑوں کو جلا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں دیمک اور نقصان دہ فنگس کے سپورز ہوتے ہیں۔ ہمیشہ کم از کم ایک سال پرانی اور اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد ہی استعمال کریں۔

سوال 5: کیا ہم امینو ایسڈ اور بوران کو ملا کر اسپرے کر سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، امینو ایسڈ اور بوران کو آپس میں مکس کر کے اسپرے کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکسچر پھول آنے کے وقت پودے کی قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور پھولوں کے گرنے کے عمل کو بہت حد تک روکتا ہے۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *