پتوں پر اسپرے کرنے والی کھادیں کون سی، کب اور کیسے

پتوں پر اسپرے کرنے والی کھادیں کون سی، کب اور کیسے


جدید زراعت اور باغبانی میں پودوں کو غذائیت فراہم کرنے کے روایتی طریقوں (جیسے مٹی میں کھاد ڈالنا یا فلڈ کرنا) کے ساتھ ساتھ پتوں پر اسپرے کرنے کا طریقہ کار تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اسے فولیئر فیڈنگ (Foliar Feeding) کہا جاتا ہے۔

اکثر کسان بھائی اور ہوم گارڈنرز یہ سوال کرتے ہیں کہ جب ہم زمین میں کھاد ڈالتے ہیں تو پتوں پر اسپرے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات مٹی کے خراب پی ایچ (pH)، سخت درجہ حرارت، جڑوں کی بیماریوں یا پانی کی کمی کی وجہ سے پودے جڑوں کے ذریعے زمین سے غذائی اجزاء حاصل کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسی صورتحال میں، پتوں پر اسپرے کرنا پودے کو فوری ‘آئی وی ڈرپ’ (IV Drip) دینے کے مترادف ہے۔

اس مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ پتوں پر اسپرے کرنے والی کھادیں کون سی ہیں، انہیں کب استعمال کرنا چاہیے، اور اسپرے کرنے کا صحیح سائنسی طریقہ کیا ہے تاکہ کھاد ضائع نہ ہو اور پودوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔


1. پتوں پر اسپرے کرنے والی کھادیں کام کیسے کرتی ہیں؟

پودوں کے پتوں کی سطح پر خوردبین سے دیکھے جانے والے چھوٹے چھوٹے مسام ہوتے ہیں جنہیں اسٹومیٹا (Stomata) کہا جاتا ہے۔ پودے ان مساموں کے ذریعے سانس لیتے ہیں اور گیسوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پتوں کی اوپری سطح پر موجود کیوٹیکل (Cuticle) کی باریک تہہ بھی مائع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جب ہم کھاد کو پانی میں حل کر کے پتوں پر چھڑکتے ہیں، تو پودا ان مساموں کے ذریعے غذائی اجزاء کو براہ راست اور فوری طور پر جذب کر لیتا ہے۔ مٹی میں ڈالی گئی کھاد کو پودے کا حصہ بننے میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ پتوں پر کیا گیا اسپرے چند گھنٹوں سے لے کر 24 گھنٹے کے اندر پودے کے خلیات تک پہنچ جاتا ہے۔


2. پتوں پر اسپرے کے لیے بہترین کھادیں (کون سی کھادیں منتخب کریں؟)

ہر کھاد پتوں پر اسپرے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ پتوں پر اسپرے کے لیے خاص طور پر تیار کردہ مائع یا مکمل حل پذیر کھادیں استعمال کی جاتی ہیں۔

الف) این پی کے (NPK) حل پذیر کھادیں

یہ نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم کا متوازن ملاپ ہوتی ہیں جو پانی میں 100 فیصد حل ہو جاتی ہیں۔

  • NPK 20-20-20: یہ پودے کی عمومی نشوونما، پتوں کے رنگ اور شاخوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بہترین ہے۔
  • NPK 12-61-0 (MAP): اس میں فاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو پھول آنے سے پہلے جڑوں کو متحرک کرنے اور شگوفے بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • NPK 0-0-50 (پوٹاشیم سلفیٹ): پھل بننے کے مرحلے پر اس کا اسپرے پھل کا سائز، وزن، ذائقہ اور چمک بڑھاتا ہے۔

ب) چیلیٹڈ مائیکرو نیوٹرینٹس (Chelated Micronutrients)

مائیکرو نیوٹرینٹس (زنک، آئرن، بورون، میگنیشیم، تانبا، مینگنیز) پودے کو بہت کم مقدار میں درکار ہوتے ہیں۔ مٹی میں ڈالنے کی نسبت پتوں پر ان کا اسپرے 10 گنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔

  • چیلیٹڈ زنک (Chelated Zinc): پودے کے قد کو بڑھانے اور پتوں کو چھوٹا رہ جانے کی بیماری سے بچانے کے لیے۔
  • بورون (Boron): پھولوں کی پولینیشن بہتر بنانے اور پھل کو پھٹنے (Cracking) سے بچانے کے لیے۔
  • آئرن (Iron): پتوں کے پیلے پن (Chlorosis) کو دور کرنے اور کلوروفل کی مقدار بڑھانے کے لیے۔

ج) امینو ایسڈز اور بائیو اسٹیمولینٹس (Amino Acids & Biostimulants)

یہ پودے کو موسمیاتی دباؤ (شدید گرمی، سردی یا خشک سالی) سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں اور پتوں کی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔


3. پتوں پر اسپرے کرنے کا صحیح وقت (کب اسپرے کریں؟)

پتوں پر اسپرے کرنے کے وقت کا تعین انتہائی اہم ہے۔ غلط وقت پر کیا گیا اسپرے نہ صرف اثر کھو دیتا ہے بلکہ پودے کے پتے جلنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اچھے اوقات:

  1. صبح سویرے (طلوعِ آفتاب کے وقت): یہ اسپرے کے لیے سب سے بہترین وقت ہے۔ صبح کے وقت ہوا میں نمی ہوتی ہے، درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور پتوں کے مسام (Stomata) پوری طرح کھلے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسپرے کرنے سے پودے کو جذب کرنے کے لیے زیادہ وقت ملتا ہے۔
  2. شام کے وقت (غروبِ آفتاب سے پہلے): اگر صبح وقت نہ ملے تو عصر کے بعد اسپرے کریں۔ اس وقت بھی دھوپ کی شدت ختم ہو چکی ہوتی ہے اور پتوں کو جذب ہونے کا موقع ملتا ہے۔

ممنوعہ اوقات (کب اسپرے ہرگز نہ کریں):

  • تیز دھوپ اور دوپہر کے وقت: جب درجہ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ ہو تو اسپرے نہ کریں۔ تیز دھوپ میں پانی تیزی سے اڑ جاتا ہے اور پتوں پر کھاد کے نمکیات کا گاڑھا غلاف رہ جاتا ہے جو پتوں کو جلا (Leaf Burn) دیتا ہے۔
  • تیز ہوا کے دوران: تیز ہوا میں اسپرے کے قطرے اڑ جاتے ہیں اور پودوں پر یکساں نہیں گرتے۔
  • بارش کے امکان پر: اگر اسپرے کے 3 سے 4 گھنٹے کے اندر بارش کا امکان ہو تو اسپرے روک دیں، کیونکہ بارش کھاد کو دھو دے گی۔

4. پتوں پر اسپرے کرنے کا صحیح سائنسی طریقہ (کیسے اسپرے کریں؟)

کود تتاکو

اسپرے کرتے وقت درج ذیل مراحل اور احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھیں:

1. محلول کی درست تیاری (Dose Calculation)

پتوں پر اسپرے کے لیے کھاد کا گاڑھا پن (Concentration) بہت کم ہونا چاہیے۔ عام طور پر 2 سے 3 گرام کھاد فی لیٹر پانی (یا 200 سے 300 گرام فی 100 لیٹر پانی) کی شرح بہترین سمجھی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ مقدار پتوں کے لیے زہریلی ہو سکتی ہے۔

2. پانی کا معیار

اسپرے کے لیے ہمیشہ صاف اور میٹھا پانی استعمال کریں۔ کلراٹھا، کڑوا یا گدلا پانی کھاد کی افادیت کو ختم کر دیتا ہے اور نوزل کو بھی بند کر سکتا ہے۔ پمپ کے پانی کا پی ایچ (pH) 6.0 سے 6.5 کے درمیان ہونا مثالی ہے۔

3. پتوں کی نچلی سطح پر توجہ دیں

پتوں کے مسام (Stomata) پتوں کے اوپر والے حصے کی نسبت نچلی سطح (Underside of leaves) پر زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اسپرے کی نوزل کا رخ اس طرح رکھیں کہ پانی پتوں کے نیچے بھی اچھی طرح پہنچے۔

4. سر فیکٹنٹ یا اسٹیکر (Surfactant / Sticker) کا استعمال

پتوں کی سطح چکنی ہوتی ہے جس کی وجہ سے پانی کے قطرے گر جاتے ہیں۔ محلول میں چند قطرے زرعی اسٹیکر یا ڈش واشنگ مائع صابن کے ملا لینے سے پانی پتوں پر پھیل جاتا ہے اور چمٹ جاتا ہے، جس سے کھاد زیادہ جذب ہوتی ہے۔

5. فائن مسٹ (Fine Mist) نوزل کا استعمال

اسپرے پمپ کی نوزل کو اس طرح سیٹ کریں کہ پانی موٹی بوندوں کے بجائے باریک دھند یا پھوار (Mist) کی شکل میں نکلے۔ اس سے پتے گیلے تو ہو جاتے ہیں لیکن پانی نیچے نہیں بہتا۔


5. مٹی میں کھاد ڈالنے اور پتوں پر اسپرے کا موازنہ

بہت سے کاشتکار الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں کون سا طریقہ اپنانا چاہیے۔ ذیل کا جدول ان دونوں طریقوں کے فرق کو واضح کرتا ہے:

خصوصیتمٹی میں کھاد ڈالنا (Soil Application)پتوں پر اسپرے کرنا (Foliar Spray)
جذب ہونے کی رفتارسست (کئی دن یا ہفتے)انتہائی تیز (چند گھنٹے)
استعمال کی جانے والی مقدارزیادہ (بوریوں کے حساب سے)بہت کم (گرام اور لیٹر کے حساب سے)
اثر کا دورانیہطویل مدتی (پودے کو مسلسل خوراک ملتی ہے)قلیل مدتی (فوری علاج کے لیے)
بنیادی مقصدپودے کا بنیادی ڈھانچہ اور جڑیں بناناغذائی کمی کو دور کرنا، پھول اور پھل کا معیار سدھارنا
مٹی کے پی ایچ (pH) کا اثرزیادہ اثر انداز ہوتا ہے (کھاد لاک ہو جاتی ہے)کوئی اثر نہیں ہوتا (براہ راست پتوں میں جذب)

6. پتوں پر اسپرے کے دوران کی جانے والی 5 عام غلطیاں

  1. کیمیائی زہروں اور کھادوں کا غلط ملاپ: اکثر کسان وقت بچانے کے لیے کھاد کو کیڑے مار زہروں (Pesticides) یا فنگس کش ادویات کے ساتھ ملا کر اسپرے کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کیمیکل آپس میں ردِعمل کر کے پودے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیشہ پہلے چھوٹے پیمانے پر جار ٹیسٹ (Jar Test) کر کے دیکھیں۔
  2. پودے کو نہلا دینا: پودے پر اتنا زیادہ اسپرے کرنا کہ پانی پتوں سے ٹپک کر زمین پر گرنے لگے، کھاد کا ضیاع ہے۔ اسپرے صرف پتوں کو نم کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔
  3. گندے اسپرے پمپ کا استعمال: اسپرے پمپ میں پہلے سے موجود جڑی بوٹی مار دوا (Weedicide) کے اثرات اگر اچھے طریقے سے نہ دھوئے جائیں، تو کھاد کا اسپرے پوری فصل کو خشک کر سکتا ہے۔
  4. بیمار اور مرجھائے ہوئے پودوں پر اسپرے: اگر پودا پانی کی شدید کمی کی وجہ سے مرجھا رہا ہو، تو اس پر اسپرے کرنے سے وہ مزید دباؤ میں آ جائے گا۔ پہلے پودے کو پانی دیں، جب وہ تروتازہ ہو جائے تب اسپرے کریں۔
  5. غیر متوازن پی ایچ والے پانی کا استعمال: اگر پانی زیادہ اسیدی یا اساسی (Alkaline) ہو گا تو کھاد پانی میں ٹھیک سے حل نہیں ہو گی اور پتوں کے مسام بند کر دے گی۔

نتیجہ

انواع کود سایت

پتوں پر اسپرے کرنے والی کھادیں جدید زراعت کا ایک موثر اور سستا ہتھیار ہیں۔ یہ مٹی میں دی جانے والی کھاد کا نعم البدل تو نہیں ہیں، لیکن یہ پودے کی نازک ضرورتوں (جیسے پھول آنے، پھل بننے اور شدید گرمی/سردی کے دباؤ کے وقت) کو فوری پورا کرنے کا بہترین طریقہ ہیں۔ اگر کسان بھائی صحیح وقت (صبح یا شام) اور درست مقدار (2-3 گرام فی لیٹر) کا خیال رکھتے ہوئے سائنسی طریقے سے اسپرے کریں، تو وہ نہ صرف کھاد کے اخراجات میں بچت کر سکتے ہیں بلکہ اپنی سبزیوں، پھلوں اور فصلوں کی پیداوار اور معیار میں بھی انقلابی اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔


کیا ہم عام یوریا کھاد کا پتوں پر اسپرے کر سکتے ہیں؟

جی ہاں، یوریا کا اسپرے کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بیوریٹ (Biuret) کی مقدار 1 فیصد سے کم ہونی چاہیے، ورنہ پتے جل جائیں گے۔ اسپرے کے لیے 1 سے 1.5 فیصد محلول (یعنی 10 سے 15 گرام یوریا فی لیٹر پانی) محفوظ حد ہے۔

اسپرے کرنے کے بعد کتنی دیر تک بارش نہیں ہونی چاہیے؟

اسپرے کرنے کے بعد کم از کم 3 سے 4 گھنٹے تک بارش نہیں ہونی چاہیے تاکہ پودے کے پتوں کو کھاد جذب کرنے کا پورا وقت مل سکے۔ اگر اسپرے کے فوراً بعد بارش ہو جائے تو اسپرے دوبارہ کرنا پڑتا ہے۔

کیا پتوں پر اسپرے مٹی کی کھادوں کا مکمل متبادل ہو سکتا ہے؟

جی نہیں، یہ مٹی کی کھادوں کا متبادل نہیں ہے۔ پودے کو نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو پتوں کے ذریعے پوری نہیں کی جا سکتی۔ یہ طریقہ صرف مائیکرو نیوٹرینٹس کی فراہمی اور ہنگامی حالات میں پودے کو فوری توانائی دینے کے لیے معاون کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

کیا ہم ایک ہی پمپ میں کھاد اور کیڑے مار دوا (Insecticide) ملا کر اسپرے کر سکتے ہیں؟

بعض حالتوں میں یہ ممکن ہے، لیکن ہر کھاد اور زہر آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر، تانبے (Copper) پر مبنی فنگس کش ادویات اور امینو ایسڈز کو کبھی ملا کر اسپرے نہیں کرنا چاہیے۔ اسپرے کرنے سے پہلے ہمیشہ ماہرِ زراعت سے مشورہ کریں۔

اگر اسپرے سے پودے کے پتے جل جائیں تو کیا کریں؟

اگر کھاد کی تیز مقدار کی وجہ سے پتے جلنے لگیں، تو فوری طور پر پودوں پر سادہ اور صاف پانی کا چھڑکاؤ کریں تاکہ پتوں پر موجود کھاد کے نمکیات دھل جائیں اور پودا مزید نقصان سے بچ سکے۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *