ٹماٹر میں پھل لگانے کے لیے کون سی کھاد استعمال کریں؟

ٹماٹر میں پھل لگانے کے لیے کون سی کھاد استعمال کریں؟


ٹماٹر پاکستان اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی اور پسند کی جانے والی سبزیوں میں سے ایک ہے۔ چاہے آپ نے اپنے گھر کے کچن گارڈن یا گملوں میں چند پودے لگائے ہوں یا پھر آپ ایک تجارتی کاشتکار ہیں جو ایکڑ کے حساب سے ٹماٹر کاشت کر رہے ہیں، سب کا سب سے بڑا ہدف ایک ہی ہوتا ہے: پودوں پر زیادہ سے زیادہ پھول لانا اور انہیں صحت مند، سرخ اور بڑے ٹماٹروں میں تبدیل کرنا۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ٹماٹر کے پودے بہت بڑے اور گھنے تو ہو گئے ہیں، ان پر سبز پتے بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن پھول یا تو بہت کم آ رہے ہیں یا پھر جو پھول آتے ہیں وہ گر جاتے ہیں اور پھل نہیں بن پاتا۔ اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ غیر متوازن غذائیت یا کھادوں کا غلط انتخاب اور غلط وقت پر استعمال ہے۔

ٹماٹر ایک ایسا پودا ہے جسے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف اقسام کی کھادوں اور غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ پودے کو شروع ہی سے صرف نائٹروجن (جیسے یوریا) دیتے رہیں گے تو پودا صرف پتے اور شاخیں بڑھاتا رہے گا اور پھل نہیں بنائے گا۔ اس تفصیلی بلاگ پوسٹ میں ہم سائنسی اصولوں کی روشنی میں یہ سمجھیں گے کہ ٹماٹر میں پھل لگانے کے لیے کون سی کھادیں، کب اور کس مقدار میں استعمال کرنی چاہئیں۔


ٹماٹر کے پودے کی غذائی ضرورتیں: این پی کے (NPK) کا توازن

کسی بھی کھاد کو استعمال کرنے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹماٹر کے پودے کو بنیادی طور پر کن غذائی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کا پودے پر کیا اثر ہوتا ہے۔

۱۔ نائٹروجن (Nitrogen – N):

نائٹروجن پودے کی سبزی مائل بڑھوتری (Vegetative Growth) کے لیے ضروری ہے۔ یہ پتوں کو ہرا بھرا بناتی ہے اور نئے شگوفے نکالنے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن ٹماٹر میں پھل لگنے کے مرحلے پر نائٹروجن کی زیادتی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ پودے کی تمام تر توانائی کو پھل بنانے کے بجائے نئے پتے بنانے پر لگا دیتی ہے۔

۲۔ فاسفورس (Phosphorus – P):

فاسفورس جڑوں کی مضبوطی اور نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کا سب سے بڑا کردار پھولوں کی پیداوار کو متحرک کرنا ہے۔ اگر مٹی میں فاسفورس کی کمی ہوگی تو پودے پر پھول بہت کم آئیں گے اور جو آئیں گے وہ کمزور ہوں گے۔

۳۔ پوٹاشیم (Potassium – K):

پوٹاشیم وہ جادوئی عنصر ہے جو ٹماٹر کے پھل کا سائز بڑھانے، اس کا رنگ گہرا سرخ کرنے، مٹھاس اور ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ یہ پودے کے اندر پانی کی گردش کو کنٹرول کرتا ہے اور اسے بیماریوں اور شدید موسم کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔


ثانوی اور مائیکرو نیوٹرینٹس (Secondary & Micronutrients) کا کردار

صرف NPK کھادیں ٹماٹر کی بمپر پیداوار کے لیے کافی نہیں ہیں۔ کچھ ایسے اجزاء بھی ہیں جو انتہائی کم مقدار میں درکار ہوتے ہیں لیکن ان کے بغیر ٹماٹر کا پھل بننا ناممکن ہے۔

  • کیلشیم (Calcium – Ca): کیلشیم پودے کے خلیات کی دیواروں (Cell Walls) کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کی کمی سے ٹماٹر میں Blوسم اینڈ روٹ (Blossom End Rot) نامی خطرناک بیماری ہوتی ہے، جس میں پھل کا نچلا حصہ کالا ہو کر سڑنے لگتا ہے اور پوری فصل تباہ ہو جاتی ہے۔
  • بوران (Boron – B): بوران پھولوں کی پولینیشن (زیرگی) کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے لازمی ہے۔ اگر پودے میں بوران کی کمی ہو تو پھول بننے کے بعد گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھل کی شکل بھی بگڑ جاتی ہے۔
  • زنک (Zinc – Zn) اور میگنیشیم (Magnesium – Mg): زنک پودے کے قد کاٹھ کو متوازن رکھتا ہے جبکہ میگنیشیم پتوں میں کلوروفل بنا کر خوراک بنانے کے عمل (Photosynthesis) کو تیز کرتا ہے۔

ٹماٹر میں پھل لگانے کا مرحلہ وار کھاد شیڈول

کود خیار و گوجه فرنگی

ٹماٹر کے پودے کی زندگی کو ہم چار اہم مراحل میں تقسیم کر کے کھاد کے استعمال کو سمجھ سکتے ہیں:

مرحلہپودے کی حالتتجویز کردہ کھادیںمقصد
پہلا مرحلہپودا لگانے کے وقت (Transplanting)گلی سڑی گوبر کی کھاد، DAP یا SSPجڑوں کی مضبوطی اور مٹی کی زرخیزی
دوسرا مرحلہپودے کی بڑھوتری (Vegetative Stage)متوازن NPK (مثلاً 20:20:20)شاخوں اور پتوں کی اچھی نشوونما
تیسرا مرحلہپھول آنے کا وقت (Flowering Stage)فاسفورس، بوران، کیلشیم نائٹریٹزیادہ پھول لانا اور گرنے سے بچانا
چوتھا مرحلہپھل بننے اور پکنے کا وقت (Fruiting Stage)پوٹاشیم (SOP)، کیلشیم، امینو ایسڈسائز، رنگ اور ذائقہ بہتر بنانا

تفصیلی مرحلہ وار کھادوں کا استعمال اور طریقہ کار

مرحلہ ۱: زمین کی تیاری اور پودا لگاتے وقت (Basal Dressing)

جب آپ ٹماٹر کی پنیری (Seedlings) کو کھیت یا بڑے گملے میں منتقل کر رہے ہوں، تو اسی وقت مٹی کے اندر فاسفورس کا ہونا ضروری ہے تاکہ جڑیں تیزی سے پھیلیں۔

  • نامیاتی طریقہ: اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد یا ورمی کمپوسٹ مٹی میں ملائیں۔ اس کے ساتھ ہڈیوں کا چورا (Bone Meal) شامل کریں جو کہ فاسفورس کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔
  • کیمیائی طریقہ: اگر آپ کیمیائی کھادیں استعمال کر رہے ہیں تو ایکڑ کے حساب سے آدھی بوری ڈی اے پی (DAP) یا ایک بوری سنگل سپر فاسفیٹ (SSP) مٹی میں ملا دیں۔ گملوں کے لیے ایک پودے کے نیچے چائے کا آدھا چمچ ڈی اے پی مٹی میں اچھی طرح مکس کریں۔

مرحلہ ۲: پھول آنے سے پہلے کا مرحلہ (Pre-Flowering Stage)

پودا لگانے کے ۳ سے ۴ ہفتے بعد جب پودا بڑھ رہا ہو تو اسے متوازن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • اس مرحلے پر NPK 20:20:20 یا 19:19:19 کا استعمال کریں۔ یہ کھاد پودے کی متوازن نشوونما کرتی ہے۔ آپ اسے پانی میں حل کر کے سپرے بھی کر سکتے ہیں یا جڑوں میں دے سکتے ہیں۔

مرحلہ ۳: پھول آنے کا اہم مرحلہ (Flowering Stage) – سب سے اہم موڑ

جیسے ہی آپ کو ٹماٹر کے پودے پر پیلے رنگ کے چھوٹے پھول نمودار ہوتے دکھائی دیں، آپ نے نائٹروجن کا استعمال فوری طور پر کم یا بند کر دینا ہے۔ اگر اس وقت یوریا کھاد دی گئی تو پھول گر جائیں گے۔

  • فاسفورس اور بوران کا سپرے: پھولوں کی تعداد بڑھانے اور انہیں گرنے سے بچانے کے لیے بوران (Boron) اور فاسفورس پر مشتمل فولیار سپرے کریں۔ بوران کی موجودگی سے زیرگی (Pollination) کا عمل سو فیصد کامیاب ہوتا ہے اور ہر پھول سے ٹماٹر بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
  • کیلشیم کا استعمال: اس مرحلے پر پودے کو کیلشیم کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اگر زمین میں کیلشیم کم ہو تو پودا پھل کو پال نہیں پاتا۔ کیلشیم نائٹریٹ کا ۱ گرام فی لیٹر پانی میں محلول بنا کر پتوں پر سپرے کریں۔

مرحلہ ۴: پھل بننے اور بڑھنے کا مرحلہ (Fruiting & Fruit Swelling Stage)

جب چھوٹے چھوٹے سبز ٹماٹر پودے پر نظر آنے لگیں، تو پودے کی بنیادی خوراک اب پوٹاشیم بن جاتی ہے۔

  • پوٹاشیم سلفیٹ (SOP): ٹماٹر میں مٹھاس، چمکدار سرخ رنگ اور گودا بھرنے کے لیے پوٹاشیم لازمی ہے۔ آپ سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) کو مٹی میں پانی کے ساتھ فلڈ کریں (کھیت کے لیے ۵ سے ۱۰ کلو گرام فی ایکڑ) یا گملوں کے لیے ایک چائے کا چمچ پانی میں حل کر کے ہر ۱۰ دن بعد جڑوں میں دیں۔
  • پوٹاشیم نائٹریٹ کا سپرے: فوری اثر کے لیے آپ پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) کا سپرے بھی کر سکتے ہیں، جس سے ٹماٹر کا سائز بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔

ٹماٹر کے لیے بہترین قدرتی اور نامیاتی کھادیں (Organic Fertilizers)

کوداختصاصی خیارو گوجه تتاکو
کوداختصاصی خیارو گوجه تتاکو

اگر آپ کچن گارڈننگ کر رہے ہیں اور کیمیائی کھادوں کا استعمال نہیں کرنا چاہتے، تو درج ذیل نامیاتی ذرائع ٹماٹر کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں:

  1. لکڑی کی راکھ (Wood Ash): لکڑی کی راکھ میں پوٹاشیم اور کیلشیم کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔ پودے کے گرد ہلکی سی گوڈی کر کے ایک مٹھی راکھ مٹی میں ملانے سے ٹماٹر کا سائز بڑا ہوتا ہے اور کیڑوں سے بھی بچاؤ ہوتا ہے۔
  2. کیلے کے چھلکوں کی کھاد (Banana Peel Fertilizer): کیلے کے چھلکے پوٹاشیم کا خزانہ ہیں۔ انہیں باریک کاٹ کر مٹی میں دبا دیں یا پھر پانی میں ۳ دن کے لیے بھگو کر رکھیں اور وہ پانی ٹماٹر کے پودوں کو دیں۔
  3. انڈے کے چھلکے (Eggshells): انڈے کے چھلکوں کو دھو کر، دھوپ میں سکھا کر بالکل باریک پاؤڈر بنا لیں۔ یہ کیلشیم کا بہترین اور سستا ترین ذریعہ ہے جو ٹماٹر کو نیچے سے کالا ہو کر سڑنے (Blossom End Rot) سے بچاتا ہے۔
  4. سرصوں کی کھل (Mustard Cake Liquid Fertilizer): سرسوں کی کھل کو پانی میں چند دن سڑا کر اس کا پتلا محلول پودوں کو دینے سے پودے کی مجموعی صحت بہترین ہو جاتی ہے۔

ٹماٹر میں کھاد دینے کے سنہری اصول اور عام غلطیاں

ٹماٹر کی کاشت میں کھاد کا درست ہونا تبھی فائدہ دے گا جب آپ درج ذیل اصولوں پر عمل کریں گے:

  • کبھی بھی خشک مٹی میں کھاد نہ دیں: جب بھی آپ کیمیائی یا تیز نامیاتی کھاد دیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ مٹی میں پہلے سے نمی موجود ہو، یا پھر کھاد دینے کے فوری بعد پودوں کو پانی دیں۔ خشک مٹی میں کھاد دینے سے جڑیں جل سکتی ہیں۔
  • تنے کے بالکل ساتھ کھاد نہ ڈالیں: کھاد ہمیشہ تنے سے کم از کم ۳ سے ۵ انچ دور مٹی میں ڈالیں اور ہلکی گوڈی کر کے مٹی میں ملا دیں۔
  • پانی کا متوازن استعمال: ٹماٹر میں پھل لگنے کے دوران پانی کا توازن بہت اہم ہے۔ اگر آپ مٹی کو کبھی بہت زیادہ گیلا اور کبھی بالکل خشک چھوڑ دیں گے، تو کیلشیم جذب کرنے کی پودے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس سے پھل پھٹنا شروع ہو جائے گا یا سڑ جائے گا۔
  • امینو ایسڈ (Amino Acids) کا استعمال: جب پودے پر شدید گرمی یا سردی کی وجہ سے تناؤ ہو، تو امینو ایسڈ کا سپرے کریں تاکہ پودا پھول گرانا بند کر دے۔

ٹماٹر کے پھول اور پھل گرنے کی دیگر وجوہات (کھاد کے علاوہ)

بعض اوقات بہترین کھاد دینے کے باوجود پھول گر جاتے ہیں۔ اس کی سائنسی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:

  1. درجہ حرارت کا بگاڑ: اگر دن کا درجہ حرارت ۳۵ ڈگری سیلسیئس سے اوپر چلا جائے یا رات کا درجہ حرارت بہت زیادہ گر جائے تو ٹماٹر کے پھول پولینیٹ نہیں ہو پاتے اور پیلے ہو کر گر جاتے ہیں۔
  2. ہوا کی کمی (Lack of Air Circulation): اگر پودے بہت گھنے لگے ہوں تو ہوا کا گزر نہیں ہوتا اور خودکار پولینیشن کا عمل رک جاتا ہے۔ پودوں کی ہلکی کٹائی (Pruning) کرتے رہیں تاکہ دھوپ اور ہوا اندر تک پہنچ سکے۔
  3. پولینیٹرز (شہد کی مکھیاں) کی کمی: گملوں میں لگے پودوں کو روزانہ صبح کے وقت ہلکا سا ہلائیں (Hand Pollination) تاکہ نر اور مادہ حصے آپس میں مل سکیں۔

حاصل کلام (Conclusion)

انواع کود سایت

ٹماٹر سے بھرپور پیداوار حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بشرطیکہ آپ پودے کی زبان اور اس کی ضروریات کو سمجھیں۔ ابتدائی مرحلے میں فاسفورس سے جڑوں کو مضبوط کریں، پھول آنے پر کیلشیم اور بوران کے ذریعے پھولوں کی حفاظت کریں، اور پھل بننے پر پوٹاشیم دے کر پھل کو سائز اور مٹھاس بخشیں۔ ان سائنسی اور آزمودہ اصولوں پر عمل کر کے آپ اپنے ٹماٹر کے پودوں سے ریکارڈ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔

س ۱: ٹماٹر کا پھل نیچے سے کالا کیوں ہوتا ہے اور اس کا کیا علاج ہے؟

جواب: ٹماٹر کا نیچے سے کالا ہو کر سڑنا کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے “Blossom End Rot” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے مٹی میں چونا یا کیلشیم نائٹریٹ کا استعمال کریں اور پانی دینے کا ایک باقاعدہ شیڈول بنائیں۔

س ۲: کیا ٹماٹر میں پھل آنے کے دوران یوریا کھاد ڈال سکتے ہیں؟

جواب: جی نہیں، پھول اور پھل بننے کے دوران یوریا دینے سے گریز کریں۔ یوریا پودے کی سبزی مائل بڑھوتری کو تیز کرتی ہے جس سے پھول گر جاتے ہیں اور پودا پھل بنانا بند کر دیتا ہے۔

س ۳: ڈی اے پی کھاد ٹماٹر کے لیے کب اور کیسے استعمال کرنی چاہیے؟

جواب: ڈی اے پی (DAP) فاسفورس کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسے ہمیشہ پودا لگانے کے وقت یا پھول آنے سے پہلے مٹی میں شامل کرنا چاہیے۔ پھل بننے کے بعد اس کا اثر بہت سست ہوتا ہے۔

س ۴: ٹماٹر کا سائز بڑا کرنے کے لیے کون سا سپرے بہترین ہے؟

جواب: ٹماٹر کا سائز بڑھانے، رنگ لال کرنے اور چمک لانے کے لیے پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) یا پوٹاشیم نائٹریٹ کا سپرے ہر ۱۰ سے ۱۵ دن بعد کرنا بہترین نتائج دیتا ہے۔

س ۵: لکڑی کی راکھ ٹماٹر کے پودے میں کیسے ڈالیں؟

جواب: لکڑی کی خشک راکھ پودے کے تنے سے دور مٹی پر چھڑکیں اور ہلکی سی گوڈی کر کے مٹی میں ملا دیں۔ ایک گملے کے لیے ایک مٹھی راکھ ہر ۱۵ دن بعد کافی ہے۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *