دھان کی پیداوار بڑھانے کے لیے کون سی کھاد سب سے ہتر ہے؟

دھان کی پیداوار بڑھانے کے لیے کون سی کھاد سب سے ہتر ہے؟


چاول یا دھان (Rice) پاکستان، بھارت اور دنیا کے کئی دیگر ممالک کی معیشت اور خوراک کا ایک اہم ترین ستون ہے۔ دھان کی مانگ ملکی سطح پر بھی بہت زیادہ ہے اور باسمتی چاول کی برآمدات (Exports) سے ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، کاشتکاروں کے سامنے ہمیشہ یہ بڑا چیلنج رہتا ہے کہ وہ کس طرح کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار حاصل کریں۔

دھان کی فصل سے بمپر پیداوار حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز زمین کی زرخیزی اور کھاد کے متوازن استعمال میں چھپا ہوا ہے۔ اکثر کاشتکار روایتی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے صرف نائٹروجن (یوریا) کھاد کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں، جس سے پودے کا قد تو بہت اونچا ہو جاتا ہے لیکن تنے کمزور ہو کر فصل گر جاتی ہے اور دانوں کی بھرائی مناسب طریقے سے نہیں ہوتی۔

اس تفصیلی اور سائنسی مضمون میں ہم دھان کی فصل کے لیے ضروری تمام اہم کھادوں، ان کی مقدار، ڈالنے کے صحیح اوقات، اور مٹی کی صحت کو برقرار رکھنے کے طریقوں پر گہرائی سے گفتگو کریں گے تاکہ آپ اپنی پیداوار کو 40 سے 50 من فی ایکڑ سے بڑھا کر 80 من یا اس سے بھی زیادہ کر سکیں۔


دھان کے پودے کی غذائی ضرورت اور مٹی کی کیمسٹری

دھان کی کاشت عام فصلوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس کی مٹی کا ایک بڑا حصہ پانی کے نیچے دبا رہتا ہے۔ جب مٹی پانی سے بھری ہوتی ہے (Submerged Soil Conditions)، تو اس کے اندر کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مٹی میں موجود بہت سے غذائی اجزاء پودے کے لیے ناقابلِ قبول شکل اختیار کر لیتے ہیں یا پھر وہ مٹی کی گہرائی میں بہہ جاتے ہیں۔ اس لیے دھان کی فصل کے لیے کھاد کا انتخاب اور اس کا طریقہ کار عام خشک فصلوں (جیسے گندم یا مکئی) سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔

دھان کی نشوونما کے لیے 16 سے زائد غذائی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں سے تین بنیادی عناصر (NPK) اور دو ثانوی یا مائیکرو نیوٹرینٹس (زنک اور بورون) سب سے زیادہ اہم ہیں۔

1. نائٹروجن (Nitrogen – N)

نائٹروجن پودے کی بڑھوتری کا بنیادی انجن ہے۔ یہ پودے میں کلوروفل (سبز مادہ) بنانے میں مدد دیتی ہے، جو پودے کی خوراک بنانے کے عمل (Photosynthesis) کے لیے ضروری ہے۔ نائٹروجن کی بدولت پودے میں زیادہ شگوفے (Tillers) بنتے ہیں اور پتے چوڑے ہوتے ہیں۔ تاہم، نائٹروجن کی زیادتی پودے کو نرم اور نازک بنا دیتی ہے، جس سے کیڑوں اور فنگس کا حملہ آسان ہو جاتا ہے۔

2. فاسفورس (Phosphorus – P)

فاسفورس پودے کی جڑوں کے نظام کو زمین میں پھیلانے اور مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پودے کے خلیات کی تقسیم (Cell Division) اور توانائی کے منتقل ہونے کے عمل میں مدد کرتی ہے۔ دھان کی فصل میں اگر جڑیں مضبوط نہ ہوں تو پودا پانی سے غذائی اجزاء حاصل نہیں کر پاتا۔ فاسفورس پودے کے تنے کو بھی مضبوطی فراہم کرتی ہے تاکہ فصل کٹائی کے وقت گرے نہ۔

3. پوٹاشیم (Potassium – K)

پوٹاشیم کو پودے کا “حفاظتی ڈھال” کہا جا سکتا ہے۔ یہ پودے کے خلیات میں پانی کے دباؤ کو کنٹرول کرتی ہے اور اسے خشک سالی، شدید گرمی، اور سردی کے اثرات سے بچاتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوٹاشیم چاول کے دانے کی لمبائی، وزن، اور چمک کو بہتر بناتی ہے۔ اگر آپ اپنی فصل کا دانہ موٹا اور وزنی بنانا چاہتے ہیں تو پوٹاش کا استعمال لازمی ہے۔

4. زنک (Zinc – Zn)

دھان کی فصل میں زنک کی اہمیت کسی بھی بڑی کھاد سے کم نہیں ہے۔ چونکہ دھان کی مٹی مسلسل پانی میں ڈوبی رہتی ہے، اس لیے مٹی میں قدرتی طور پر موجود زنک پودے کو دستیاب نہیں ہو پاتا۔ زنک کی کمی پودے کی نشوونما کو روک دیتی ہے اور اس کے پتے تانبے کے رنگ کے (Rust-colored) ہو جاتے ہیں، جسے مقامی زبان میں “حداد” یا “بلائٹ” کہا جاتا ہے۔


دھان کے لیے کھاد کا مکمل شیڈول: کب اور کتنی کھاد ڈالیں؟

پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے کھاد کی صحیح مقدار اور وقت کا انتخاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہاں ہم پنیری کی منتقلی کے بعد استعمال ہونے والا ایک معیاری اور سائنسی طور پر ثابت شدہ کھاد کا شیڈول پیش کر رہے ہیں:

مرحلہفصل کی عمر (دن)تجویز کردہ کھاد اور مقدار (فی ایکڑ)مقصد اور فائدہ
زمین کی تیاری (بنیادی خوراک)0 دن (منتقلی کے وقت)1 بوری ڈی اے پی (DAP) + 1 بوری ایس او پی (SOP) یا 3 بوری ایس ایس پی (SSP)جڑوں کی ابتدائی نشوونما اور تنے کی مضبوطی۔
ابتدائی شگوفہ سازی10 سے 15 دن10 کلو گرام زنک سلفیٹ (33٪) یا 15 کلو گرام (21٪)زنک کی کمی کو پورا کرنا اور حداد کی بیماری سے بچاؤ۔
شگوفہ سازی کا عروج22 سے 25 دن1 بوری یوریا یا 1.5 بوری امونیم سلفیٹشگوفوں (Tillers) کی تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ۔
تنے کی لمبائی اور بڑھوتری40 سے 45 دنآدھی بوری سے ایک بوری یوریاپودے کی قد اور پودے کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا۔
گوبھ کا مرحلہ (سٹے بننا)60 سے 65 دن5 سے 10 کلو گرام پوٹاشیم نائٹریٹ کا اسپرے یا فلڈدانوں کی بھرائی، چمک اور پولینیشن کو بہتر بنانا۔

زمین کی تیاری اور بنیادی کھاد کا استعمال (Basal Application)

دھان کی کاشت کے لیے جب زمین کو کدو (Puddling) کیا جا رہا ہو، تو اس وقت فاسفورس کی پوری مقدار زمین میں ملا دینی چاہیے۔ فاسفورس مٹی میں بہت آہستہ حرکت کرتی ہے، اس لیے اگر اسے زمین کے اندر نہ دبایا جائے تو پودے کی جڑیں اس تک نہیں پہنچ پاتیں۔

کوشش کریں کہ اس مرحلے پر ایک بوری ڈی اے پی (DAP) کے ساتھ آدھی سے ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) لازمی ڈالیں۔ اگر ڈی اے پی مہنگی ہو تو اس کا بہترین متبادل سنگل سپر فاسفیٹ (SSP) ہے۔ تین بوری ایس ایس پی ایک بوری ڈی اے پی کے برابر فاسفورس فراہم کرتی ہے، اور اس میں اضافی طور پر سلفر اور کیلشیم بھی موجود ہوتے ہیں جو دھان کی مٹی کی ساخت کو بہتر بناتے ہیں۔

پنیری کی منتقلی کے بعد پہلا مرحلہ: زنک کا استعمال

دھان کی پنیری منتقلی کے بعد ابتدائی دو ہفتوں میں جڑیں پکڑتی ہے۔ اس مرحلے پر پودے کو زنک کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

  • طریقہ کار: 33 فیصد والا زنک سلفیٹ 10 کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں۔ اسے ہلکی ریت یا تھوڑی سی یوریا کھاد کے ساتھ ملا کر پورے کھیت میں برابر چھٹا کریں۔
  • احتیاط: کبھی بھی زنک اور فاسفورس (DAP) کو ایک ساتھ ملا کر مت ڈالیں۔ اگر آپ نے زمین کی تیاری میں ڈی اے پی ڈالی ہے، تو زنک ڈالنے کے لیے کم از کم 10 سے 12 دن کا وقفہ لازمی دیں۔ ان دونوں کھادوں کو ملانے سے زمین کے اندر کیمیائی تعامل ہوتا ہے اور دونوں کھادیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

دوسرا مرحلہ: نائٹروجن کی پہلی قسط (شگوفہ سازی کا مرحلہ)

منتقلی کے 20 سے 25 دن بعد دھان کا پودا تیزی سے نئے شگوفے بناتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو نائٹروجن کی پہلی بڑی خوراک دینی چاہیے۔

اس وقت ایک بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔ یوریا ڈالتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کھیت میں پانی بہت زیادہ گہرا نہ ہو۔ اگر کھیت پانی سے بھرا ہوا ہو گا، تو یوریا پانی میں گھل کر ہوا میں اڑ جائے گی (Volatilization) یا زمین کی نچلی تہوں میں چلی جائے گی جہاں جڑیں نہیں ہوتیں۔ مثالی طریقہ یہ ہے کہ کھیت کا پانی خشک ہونے دیں، جب صرف کیچڑ یا ہلکی نمی باقی رہ جائے تو یوریا کا چھٹا کریں اور 24 سے 36 گھنٹے بعد ہلکا پانی لگا دیں۔

تیسرا مرحلہ: نائٹروجن کی دوسری قسط

پنیری کی منتقلی کے 40 سے 45 دن بعد پودے کے شگوفے بننے کا عمل مکمل ہو چکا ہوتا ہے اور پودا گوبھ کے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس وقت پودے کو قد بڑھانے اور تنے کو چوڑا کرنے کے لیے نائٹروجن کی دوسری قسط درکار ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر آدھی بوری سے ایک بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں۔ اس مرحلے کے بعد نائٹروجن کا مزید استعمال بند کر دینا چاہیے، کیونکہ دیر سے ڈالی گئی نائٹروجن فصل کو گوبھ کے وقت گرنے کا سبب بنتی ہے اور تنے کی سنڈی کا حملہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: گوبھ کا مرحلہ اور مائیکرو نیوٹرینٹس (Micro-nutrients)

جب دھان کا سٹا تنے کے اندر بن رہا ہو (جسے گوبھ یا Booting Stage کہتے ہیں)، تو یہ فصل کا سب سے حساس وقت ہوتا ہے۔ اس وقت پودے کو پوٹاشیم اور بورون کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔

  • پوٹاش کا کردار: اگر آپ نے شروع میں پوٹاش نہیں ڈالی تھی، تو اس مرحلے پر 5 سے 10 کلو گرام حل پذیر پوٹاشیم سلفیٹ کو پانی میں حل کر کے فلڈ کریں یا اس کا اسپرے کریں۔ یہ چاول کے دانوں کے سائز کو بڑھاتا ہے۔
  • بورون کا کردار: بورون ایک ایسا عنصر ہے جو چاول کے دانوں کے ملاپ اور پولینیشن کے عمل کو یقینی بناتا ہے۔ بورون کی کمی کی وجہ سے چاول کے سٹے تو بن جاتے ہیں لیکن ان کے اندر دانے نہیں بنتے، جسے کاشتکار “خالی دانے یا فوق” کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر 100 سے 150 گرام بورون کا فی ایکڑ اسپرے کرنے سے دانوں کی بھرائی مکمل ہوتی ہے۔

دھان کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی طریقے

پیشنهادی برنج تتاکو
پیشنهادی برنج تتاکو

صرف کیمیائی کھادوں کا استعمال ہی پیداوار بڑھانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جدید زراعت میں کچھ ایسے طریقے بھی ہیں جن کو اپنا کر آپ کھاد کی افادیت کو دوگنا کر سکتے ہیں:

1. لیزر لینڈ لیولنگ (Laser Land Leveling)

اگر آپ کا کھیت ہموار نہیں ہوگا، تو کھاد اور پانی کا پھیلاؤ ناہموار ہوگا۔ نیچی جگہوں پر پانی کھڑا رہنے سے کھاد ضائع ہو جائے گی اور اونچی جگہوں پر پودے خشک رہ جائیں گے۔ لیزر لینڈ لیولر کے ذریعے کھیت کو ہموار کرنے سے کھاد کی افادیت میں 20 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

2. آرگینک اور دیسی کھاد کا استعمال

صرف کیمیائی کھادیں وقت کے ساتھ ساتھ زمین کی حیاتیاتی زندگی (مائیکروبس) کو نقصان پہنچاتی ہیں جس سے زمین سخت ہو جاتی ہے۔ ہر دو سے تین سال بعد دھان کی کاشت سے پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد (Farm Yard Manure) یا جنتر کی سبز کھاد (Green Manuring) لازمی ڈالیں۔ یہ زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور مٹی کو نرم رکھتی ہے۔

3. مٹی کا تجزیہ (Soil Testing)

اپنے کھیت کی مٹی کا لیبارٹری سے معائنہ کروانا سب سے سستا اور بہترین طریقہ ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کی زمین میں نائٹروجن، فاسفورس یا زنک کی کتنی مقدار پہلے سے موجود ہے۔ اس طرح آپ فالتو کھادیں خریدنے کے خرچے سے بچ جاتے ہیں۔


کھاد ڈالتے وقت کسانوں کی 5 بڑی غلطیاں اور ان کے نقصانات

پاکستانی کاشتکاروں میں کچھ ایسی روایات عام ہیں جو فصل کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہیں:

  1. کھڑے پانی میں یوریا کا استعمال: دھان میں پانی کھڑا رکھنا ضروری ہے، لیکن کھاد ڈالتے وقت پانی کی گہرائی کم سے کم ہونی چاہیے۔ زیادہ پانی میں یوریا ڈالنے سے 50 فیصد تک نائٹروجن ضائع ہو جاتی ہے۔
  2. فاسفورس اور زنک کا ملاپ: یہ دھان کی کاشت کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ ان دونوں کو ہمیشہ الگ الگ وقت پر استعمال کریں۔
  3. دیر سے نائٹروجن ڈالنا: کچھ کاشتکار سٹا نکلنے کے بعد بھی یوریا ڈالتے رہتے ہیں تاکہ فصل ہری بھری نظر آئے۔ اس سے چاول کا دانہ کچا رہ جاتا ہے اور فصل پر کیڑوں کا حملہ شدید ہو جاتا ہے۔
  4. پوٹاش کو نظر انداز کرنا: زیادہ تر کسان صرف یوریا اور ڈی اے پی کو ہی کھاد سمجھتے ہیں۔ پوٹاش کے بغیر چاول کا دانہ کبھی بھی چمکدار اور وزنی نہیں بن سکتا۔
  5. جعلی کھادوں کا استعمال: مارکیٹ میں غیر معیاری اور جعلی کھادوں کی فروخت عام ہے۔ ہمیشہ تصدیق شدہ ڈیلر سے کھاد خریدیں اور بل لازمی حاصل کریں۔

نتیجہ

انواع کود سایت

دھان کی فصل سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بشرطیکہ آپ سائنسی اصولوں کے مطابق کھاد کا انتظام کریں۔ زمین کی تیاری کے وقت ڈی اے پی اور پوٹاش کا استعمال، ابتدائی دنوں میں زنک سلفیٹ کی فراہمی، اور شگوفہ سازی کے دوران یوریا کی صحیح قسطیں ڈالنا ہی دھان کی پیداوار بڑھانے کا سب سے بہترین اور آزمودہ نسخہ ہے۔ اگر آپ ان سفارشات پر عمل کریں گے، تو نہ صرف آپ کی پیداواری لاگت کم ہوگی بلکہ آپ کی فصل بھی صحت مند اور منافع بخش رہے گی۔


دھان میں زنک سلفیٹ ڈالنا کیوں ضروری ہے؟

دھان کی فصل پانی میں کھڑی رہنے کی وجہ سے زنک کی شدید کمی کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے پتوں پر پیلے اور بھورے دھبے پڑ جاتے ہیں اور پودوں کا قد رک جاتا ہے۔ زنک سلفیٹ ڈالنے سے پودے کا مدافعت کا نظام بہتر ہوتا ہے اور حداد کی بیماری کا خاتمہ ہوتا ہے۔

کیا ہم دھان میں ڈی اے پی کی جگہ ایس ایس پی (SSP) استعمال کر سکتے ہیں؟

جی بالکل، ایس ایس پی (SSP) ایک بہترین اور سستا متبادل ہے۔ تین بوری ایس ایس پی ایک بوری ڈی اے پی کے برابر فاسفورس فراہم کرتی ہے، اور اس میں سلفر اور کیلشیم بھی اضافی طور پر موجود ہوتے ہیں جو مٹی کو نرم کرتے ہیں۔

دھان میں نائٹروجن کھاد کا استعمال کب بند کر دینا چاہیے؟

دھان کی فصل میں منتقلی کے 45 سے 50 دن بعد یا گوبھ کے مرحلے پر یوریا کا استعمال مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے، کیونکہ دیر سے ڈالی گئی نائٹروجن فصل کو کمزور بنا کر گرنے اور کیڑوں کے حملے کا شکار بناتی ہے۔

دھان کی پیداوار بڑھانے میں پوٹاش کا کیا کردار ہے؟

پوٹاش چاول کے دانے کو وزنی، چمکدار اور لمبا بناتی ہے۔ یہ فصل کو تیز ہواؤں کے دوران گرنے سے بچانے کے لیے تنے کو مضبوط کرتی ہے اور پودے کی مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

کیا فاسفورس اور زنک کھادیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں؟

نہیں، ڈی اے پی (فاسفورس) اور زنک سلفیٹ کو کبھی بھی ایک ساتھ ملا کر نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان کے درمیان کیمیائی عمل کے نتیجے میں دونوں کھادیں غیر حل پذیر ہو کر بے اثر ہو جاتی ہیں۔ زنک کو ہمیشہ ڈی اے پی کے استعمال کے 10 سے 12 دن بعد ڈالیں۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *