آم کے درخت میں کھاد کب دیں؟ زیادہ پھل لینے کا مکمل شیڈول

آم کے درخت میں کھاد کب دیں؟ زیادہ پھل لینے کا مکمل شیڈول


آم (Mango) کو برصغیر پاک و ہند میں پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف اپنے منفرد ذائقے اور خوشبو کے لیے مشہور ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی ایک انتہائی منافع بخش فصل ہے۔ تاہم، زیادہ تر باغبان آم کے باغات سے مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ درخت کو متوازن اور صحیح وقت پر غذائیت فراہم نہیں کی جاتی۔ اکثر باغبان صرف روایتی کھادوں (جیسے کہ صرف یوریا) پر انحصار کرتے ہیں یا پھر غلط وقت پر کھاد ڈال کر درخت کی قدرتی صلاحیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

آم کے درخت کی غذائی ضروریات پیچیدہ ہیں اور یہ سیزن کے مختلف مراحل پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے باغ میں پھول زیادہ آئیں، پھل کا کیرا (جھڑاؤ) کم سے کم ہو، پھل کا سائز بڑا ہو، اور مٹھاس و رنگت بہترین ہو، تو آپ کو ایک باقاعدہ اور سائنسی کھاد کا شیڈول اپنانا ہوگا۔ اس جامع مضمون میں ہم آم کے درخت کے لیے غذائی عناصر کی اہمیت، سالانہ کھاد کا تفصیلی شیڈول، عمر کے لحاظ سے خوراک کی مقدار، اور کھاد دینے کے درست طریقوں پر تفصیلی بحث کریں گے۔


آم کے درخت کے لیے اہم غذائی عناصر اور ان کا کردار

کیمیائی یا نامیاتی کھادیں دینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آم کے درخت کو کس عنصر کی ضرورت کیوں اور کب ہوتی ہے۔ پودوں کے ان غذائی عناصر کو ہم دو بنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

۱. کبیر غذائی عناصر (Macronutrients)

  • نائٹروجن (Nitrogen – N): نائٹروجن پتوں کی ہریالی (Chlorophyll) اور نئی شاخوں (Vegetative Flushes) کے بننے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن آم کے معاملے میں نائٹروجن کا استعمال بہت احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر پھول آنے سے چند ماہ پہلے نائٹروجن زیادہ دے دی جائے تو درخت پھول دینے کے بجائے نئی شاخیں اور پتے نکالنا شروع کر دیتا ہے، جس سے پیداوار شدید متاثر ہوتی ہے۔
  • فاسفورس (Phosphorus – P): یہ عنصر جڑوں کے پھیلاؤ، خلیات کی تقسیم، اور پودے کے اندر توانائی کے نظام (ATP) کو فعال رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ فاسفورس پودے کو آنے والے سیزن میں پھول پیدا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس کا استعمال عام طور پر سال میں ایک بار، کٹائی کے بعد کیا جاتا ہے۔
  • پوٹاشیم (Potassium – K): پوٹاشیم آم کے پھل کی کوالٹی کا ضامن ہے۔ یہ پھل میں شکر (مٹھاس) کی مقدار بڑھاتا ہے، پھل کا سائز بڑا کرتا ہے، چھلکے کو مضبوط بنا کر بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے، اور کٹائی کے بعد پھل کی شیلف لائف (Shelf Life) کو بہتر بناتا ہے۔

۲. صغیر غذائی عناصر (Micronutrients)

  • بوران (Boron – B): آم کے باغات میں بوران کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ پولن گرینز کی صحت (Pollen Viability) اور پولن ٹیوب کی لمبائی بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جس سے پولینیشن کا عمل کامیاب ہوتا ہے۔ بوران کی کمی کی وجہ سے پھول گر جاتے ہیں اور جو پھل بنتے ہیں وہ بھی جلد جھڑ جاتے ہیں یا ان کی شکل بگڑ جاتی ہے۔
  • زنک (Zinc – Zn): زنک پودے کے اندر گروتھ ہارمونز (Auxins) کی تیاری میں مدد کرتا ہے۔ اس کی کمی سے پتے چھوٹے رہ جاتے ہیں اور شاخوں کے سرے گچھوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں (Rosetting)۔
  • کیلشیم (Calcium – Ca): کیلشیم خلیات کی دیواروں (Cell Walls) کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ یہ پھل کو اندرونی خرابیوں (جیسے کہ Soft Nose یا مٹی تلی) سے بچاتا ہے اور پھل کو سخت بنا کر نقل و حمل کے دوران خراب ہونے سے روکتا ہے۔

آم کے درخت کے لیے سالانہ کھاد کا سائنسی شیڈول (مرحلہ وار)

کود تتاکو

آم کے بالغ درخت (عمر ۱۰ سال سے زائد) کے لیے سالانہ کھاد کے پروگرام کو سات اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:

مرحلہ ۱: فصل کی کٹائی کے فوراً بعد (برداشت کے بعد کی بحالی)

بہترین وقت: جولائی تا اگست (یا کٹائی مکمل ہونے کے فوراً بعد)

پھل پکنے اور کٹائی کے دوران درخت اپنی تمام تر توانائی خرچ کر چکا ہوتا ہے اور شدید تناؤ (Stress) کا شکار ہوتا ہے۔ اگر اس وقت درخت کو خوراک نہ دی جائے تو وہ اگلے سال کے لیے پھول کی کلیاں (Flower Buds) بنانے کے قابل نہیں رہتا، جسے ہم “متبادل سال کا اثر” (Alternate Bearing) بھی کہتے ہیں۔

  • نامیاتی کھاد: ۲۰ سے ۴۰ کلو گرام اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد یا کمپوسٹ فی درخت۔
  • کیمیائی کھاد: ۱ سے ۲ کلو گرام ڈی اے پی (DAP) یا ۲ سے ۴ کلو گرام سنگل سپر فاسفیٹ (SSP) اور ۵۰۰ گرام سے ۱ کلو گرام پوٹاشیم سلفیٹ (SOP)۔
  • طریقہ کار: تنے سے دور، درخت کے سائے (Canopy Drip Line) کے نیچے ۶ انچ گہری کھائی کھود کر کھاد ڈالیں اور مٹی سے ڈھانپ کر فوراً پانی دیں۔

مرحلہ ۲: برسات یا مانسون کا دور (پتوں اور شاخوں کی بڑھوتری)

بہترین وقت: اگست کے آخر سے ستمبر تک

اس مرحلے پر درخت کو نئی شاخیں نکالنی چاہئیں جن پر اگلے سال پھل آنا ہے۔

  • کھاد کی مقدار: ۵۰۰ گرام یوریا یا امونیم سلفیٹ مٹی میں دیں۔ اگر مٹی کا پی ایچ (pH) زیادہ ہو تو ہیومک ایسڈ (Humic Acid) بھی شامل کریں۔
  • فائدہ: نئی شاخوں کی تیز رفتار بڑھوتری اور پتوں کا سائز بڑا ہونا۔

مرحلہ ۳: پھول آنے سے ۶ سے ۸ ہفتے پہلے (Flower Bud Induction)

بہترین وقت: نومبر کے آخر سے دسمبر تک

یہ وہ وقت ہے جب درخت کے اندرونی ہارمونز یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شاخ کے سرے سے پھول نکلے گا یا نیا پتا۔ اس وقت پودے کو نائٹروجن کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ فاسفورس اور پوٹاش کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • کھاد: ۵۰۰ گرام ایس او پی (SOP) مٹی میں دیں۔
  • فولیار سپرے (پتوں پر سپرے): زنک سلفیٹ (۰.۲٪) اور بورک ایسڈ (۰.۱٪) کا ملا جلا سپرے کریں۔ اس کے ساتھ ہلکا امینو ایسڈ (Amino Acid) تناؤ سے بچاؤ کے لیے شامل کیا جا سکتا ہے۔

مرحلہ ۴: پھول آنے کا مرحلہ (Full Bloom Stage)

بہترین وقت: فروری تا مارچ

جب آم کے درخت پر بور (Flowers) پوری طرح نکل آئے تو اس وقت مٹی میں کوئی سخت کھاد دینے یا پتوں پر تیز کیمیکلز کا سپرے کرنے سے گریز کریں۔

  • ضروری اقدام: اگر بور پر کیڑوں (جیسے ہاپر) یا فنگس (جیسے سفوفی پھپھوند یا پاؤڈری ملڈیو) کا حملہ ہو تو صرف سفارش کردہ ہلکی ادویات کا سپرے شام کے وقت کریں۔ نائٹروجن کا استعمال اس مرحلے پر بالکل بند رکھیں۔

مرحلہ ۵: پھل بننے کے فوراً بعد (Fruit Set Stage)

بہترین وقت: مارچ کے آخر سے اپریل کے شروع تک

جب پھول گر جائیں اور مٹر کے دانے کے برابر ننھے پھل (Pinhead to Pea Stage) بن جائیں، تو یہ مرحلہ انتہائی نازک ہوتا ہے۔ اس وقت کیلشیم اور بوران کی کمی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پھل جھڑنے لگتا ہے۔

  • فولیار سپرے: کیلشیم نائٹریٹ (۲ گرام فی لیٹر پانی) اور بوران (۱ گرام فی لیٹر پانی) کا ملا جلا سپرے کریں۔
  • مٹی میں کھاد: اگر آبپاشی دستیاب ہو تو ۵۰۰ گرام کیلشیم نائٹریٹ فی درخت دیں۔

مرحلہ ۶: پھل کے سائز بڑھنے کا مرحلہ (Fruit Development Stage)

بہترین وقت: اپریل کے آخر سے مئی تک

اس مرحلے پر پھل تیزی سے سائز بڑھاتا ہے اور اسے پوٹاشیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ خلیات کے اندر پانی کا دباؤ برقرار رہے اور شکر جمع ہو سکے۔

  • کھاد: ۱ کلو گرام پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) فی درخت پانی کے ساتھ فلڈ کریں یا مٹی میں ملا کر پانی دیں۔
  • فولیار سپرے: پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) کا ۱ سے ۲ فیصد محلول بنا کر پتوں پر سپرے کریں۔

مرحلہ ۷: کٹائی سے پہلے کا آخری مرحلہ (Fruit Finishing)

بہترین وقت: جون (کٹائی سے ۳ سے ۴ ہفتے پہلے)

اس مرحلے پر کھادوں کا مقصد پھل کے ذائقے، رنگت اور شیلف لائف کو بہتر بنانا ہے۔

  • اقدامات: نائٹروجن کا استعمال مکمل بند رکھیں۔ پانی کی مقدار متوازن رکھیں (نہ بہت زیادہ نہ بہت کم)۔ اسپرے کے طور پر کیلشیم کا ایک آخری سپرے پھل کی جلد کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

درخت کی عمر کے لحاظ سے کھاد کا چارٹ

آم کے درخت کی عمر کے ساتھ اس کی غذائی ضرورت تبدیل ہوتی ہے۔ نیچے دیے گئے جدول (Table) کے مطابق کھاد کی مقدار کا تعین کریں:

درخت کی عمرگلی سڑی گوبر کی کھاد (سالانہ)ڈی اے پی (DAP) (سالانہ)یوریا (Urea) (سالانہ)ایس او پی (SOP) (سالانہ)
۱ سے ۳ سال۱۰ سے ۱۵ کلو گرام۲۵۰ گرام۲۰۰ گرام۱۵۰ گرام
۴ سے ۶ سال۱۵ سے ۲۵ کلو گرام۵۰۰ گرام۴۰۰ گرام۳۰۰ گرام
۷ سے ۹ سال۲۵ سے ۳۵ کلو گرام۱ کلو گرام۶۰۰ گرام۵۰۰ گرام
۱۰ سال یا زائد۴۰ سے ۵۰ کلو گرام۱.۵ سے ۲ کلو گرام۱ کلو گرام۱ سے ۱.۵ کلو گرام

نوٹ: یہ مقداریں پورے سال کی ہیں، جنہیں اوپر بیان کیے گئے مراحل کے مطابق تقسیم کر کے دینا چاہیے۔


کھاد دینے کا درست طریقہ (Method of Application)

بہت سے باغبان کھاد تنے کے بالکل پاس ڈھیر کر دیتے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ درخت کی خوراک جذب کرنے والی باریک جڑیں تنے کے پاس نہیں ہوتیں، بلکہ وہ درخت کے پھیلاؤ کے بیرونی کنارے پر ہوتی ہیں جسے “ڈرپ لائن” کہا جاتا ہے۔

  1. رنگ کا طریقہ (Ring Method): درخت کے تنے سے فاصلہ رکھ کر، پتوں کے آخری پھیلاؤ کے نیچے زمین پر گول دائرہ (رنگ) بنائیں۔ اس دائرے میں مٹی کو ۴ سے ۶ انچ گہرا کھودیں۔
  2. کھاد ملانا: کھادوں کو اس مٹی میں اچھی طرح ملائیں اور دوبارہ گڑھے کو بند کر دیں۔
  3. فوری آبپاشی: کیمیائی کھاد ڈالنے کے فوراً بعد ہلکا پانی دیں تاکہ کھاد حل ہو کر جڑوں تک پہنچ جائے اور گیس بن کر ضائع نہ ہو۔

آم کے باغات میں آبپاشی اور کھاد کا باہمی تعلق

صرف کھاد ڈال دینا کافی نہیں، جب تک مٹی میں مناسب نمی نہ ہو۔

  • خشک مٹی میں نقصان: اگر مٹی خشک ہو اور آپ کیمیائی کھادیں ڈال دیں تو جڑیں جل سکتی ہیں (Root Burn)۔
  • پھول آنے پر پانی کا کنٹرول: دسمبر اور جنوری میں (پھول آنے سے پہلے) پانی روک دیا جاتا ہے تاکہ درخت تناؤ کا شکار ہو کر پھول نکالے۔ اس دوران نائٹروجن اور پانی کی زیادتی بور کو پتوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔
  • پھل بننے کے بعد مستقل نمی: مارچ سے جون تک مٹی میں نمی کا تناسب برابر ہونا چاہیے۔ پانی میں اچانک اتار چڑھاؤ پھل کے پھٹنے (Fruit Cracking) اور گرنے کا باعث بنتا ہے۔

عام غلطیاں جن سے باغبانوں کو بچنا چاہیے

  1. صرف یوریا کا بے دریغ استعمال: اس سے درخت دیکھنے میں تو بڑا اور سرسبز لگتا ہے لیکن اس پر پھل نہیں لگتا اور بیماریوں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
  2. بوران کی زیادہ مقدار: بوران پودے کے لیے نہایت ضروری ہے لیکن اس کی بہت معمولی سی زیادہ مقدار بھی زہریلی (Toxic) ہو جاتی ہے جس سے پتے جل جاتے ہیں۔
  3. تیز دھوپ میں سپرے کرنا: دوپہر کے وقت پتوں پر سپرے کرنے سے دوا بخارات بن کر اڑ جاتی ہے اور پتوں پر دھبے پڑ سکتے ہیں۔ ہمیشہ سپرے صبح سویرے یا شام ۴ بجے کے بعد کریں۔
  4. کچی گوبر کی کھاد ڈالنا: کچی گوبر کی کھاد میں کیڑے (جیسے دیمک) اور فنگس کے اسپورز ہوتے ہیں۔ ہمیشہ ایسی گوبر استعمال کریں جو کم از کم ۶ ماہ پرانی اور اچھی طرح گلی سڑی ہو۔

حاصل کلام (Conclusion)

انواع کود سایت

آم کے باغ سے بمپر پیداوار حاصل کرنا کوئی جادو نہیں بلکہ ایک منظم سائنسی عمل ہے۔ اگر آپ ہر سال فصل کی کٹائی کے بعد درختوں کی دیکھ بھال شروع کریں، ستمبر میں نئی شاخوں کی بڑھوتری پر توجہ دیں، دسمبر میں فاسفورس اور پوٹاش کی مدد سے پھولوں کی بنیاد رکھیں، اور پھل بننے کے بعد کیلشیم، بوران اور پوٹاش کا متوازن استعمال کریں، تو آپ کی پیداوار میں کم از کم ۳۰ سے ۵۰ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مٹی کا سالانہ ٹیسٹ کروانا اور اس کے مطابق کھادوں کا استعمال کرنا ہمیشہ بہترین اور معاشی طور پر سودمند نتائج فراہم کرتا ہے۔

۱. آم کے درخت کو سال میں کتنی بار کھاد دینی چاہیے؟

آم کے بالغ درخت کو سال میں بنیادی طور پر تین بار کھاد دی جانی چاہیے۔ پہلی بار فصل کی کٹائی کے فوراً بعد (جولائی-اگست) تاکہ درخت بحال ہو سکے، دوسری بار پھول آنے سے پہلے (نومبر-دسمبر) پھولوں کی مضبوطی کے لیے، اور تیسری بار پھل بننے کے بعد (مارچ-اپریل) پھل کا سائز بڑھانے اور جھڑاؤ روکنے کے لیے۔

۲. آم کا بور (پھول) اور چھوٹا پھل گرنے سے کیسے روکیں؟

پھول اور پھل کا جھڑاؤ (کیرا) روکنے کے لیے مٹر کے دانے کے برابر مرحلے (Fruit Set Stage) پر کیلشیم نائٹریٹ اور بوران کا ملا جلا فولیار سپرے کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین میں نمی کا تناسب برقرار رکھیں اور اس حساس مرحلے پر نائٹروجن (یوریا) دینے سے گریز کریں۔

۳. کیا پھول آنے کے دوران یوریا کھاد ڈال سکتے ہیں؟

جی نہیں، بالکل نہیں۔ پھول آنے کے دوران یا اس سے ٹھیک پہلے یوریا یا کوئی بھی زیادہ نائٹروجن والی کھاد ڈالنے سے درخت پھولوں کو گرا دیتا ہے اور ان کی جگہ نئی شاخیں اور سبز پتے نکالنا شروع کر دیتا ہے۔ اس مرحلے پر صرف فاسفورس اور پوٹاش کی ضرورت ہوتی ہے۔

۴. آم کے پھل کا سائز اور مٹھاس بڑھانے کے لیے کون سی کھاد بہترین ہے؟

پھل کا سائز، مٹھاس اور رنگت بہتر بنانے کے لیے پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) سب سے بہترین کھاد ہے۔ اسے پھل بننے کے بعد مٹی میں فلڈ کریں یا پتوں پر پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) کا سپرے کریں۔

۵. کیا کچی گوبر کی کھاد آم کے درخت کے لیے نقصان دہ ہے؟

جی ہاں، کچی یا تازہ گوبر کی کھاد ڈالنے سے گریز کریں۔ اس میں دیمک (Termite)، نقصان دہ فنگس اور جڑی بوٹیوں کے بیج ہوتے ہیں جو جڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیشہ کم از کم ۶ ماہ پرانی، گلی سڑی اور خشک گوبر کی کھاد ہی استعمال کریں۔

۶. آم کے درخت کو کھاد دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

کھاد کو کبھی بھی تنے کے بالکل پاس نہ ڈالیں۔ کھاد دینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ درخت کے پتوں کے بیرونی پھیلاؤ کے نیچے (Canopy Drip Line) زمین میں ۴ سے ۶ انچ گہری کھائی (Ring) بنا کر کھاد ڈالیں، اسے مٹی میں ملائیں اور فوراً پانی دیں۔

راه-های-ارتباطی

منابع

کارشناسان کشاورزی

سایت های کشاورزی معتبر

سایت تتاکو

بدون نظر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *