سیب زمین یا آلو دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ہندوستان میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی اور تجارتی اہمیت کی حامل فصل ہے۔ آلو کی فی ایکڑ پیداوار کا انحصار جہاں اچھے بیج، مناسب آبپاشی اور زمین کی ساخت پر ہوتا ہے، وہیں سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر کھادوں کا متوازن اور بروقت استعمال ہے۔ آلو ایک ایسی فصل ہے جو مٹی سے بہت تیزی کے ساتھ غذائی اجزاء جذب کرتی ہے۔ چونکہ آلو کا پھل (Tuber) زمین کے اندر بنتا ہے، اس لیے اسے روایتی فصلوں (جیسے گندم یا دھان) کی نسبت ایک بالکل مختلف اور مخصوص غذائی پلان کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہت سے کاشتکار روایتی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے صرف یوریا اور ڈی اے پی (DAP) پر انحصار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں پودے کے پتے تو خوب پھیل جاتے ہیں لیکن زمین کے نیچے آلو کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے یا ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم سائنسی اصولوں کے مطابق آلو کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری سے لے کر کٹائی تک کھادوں کے مکمل شیڈول کا احاطہ کریں گے۔
۱. آلو کی فصل کے لیے بنیادی غذائی عناصر اور ان کا کردار
آلو کی فصل کو اپنی زندگی کا چکر مکمل کرنے کے لیے تین بنیادی عناصر (NPK) کے ساتھ ساتھ ثانوی عناصر اور مائیکرو نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا درست توازن ہی بمپر پیداوار کا ضامن ہے۔
الف) نائٹروجن (Nitrogen – N)
نائٹروجن پودے کے پتوں، شاخوں اور قد کاٹھ (Vegetative Growth) کے لیے ضروری ہے۔ یہ کلوروفل بنانے میں مدد کرتی ہے جس سے پودا اپنی خوراک خود تیار کرتا ہے۔
- اہمیت: ابتدائی مرحلے میں پودے کا ڈھانچہ مضبوط کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے۔
- کمی کا نقصان: پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، پتے پیلے پڑ جاتے ہیں اور آلو کا سائز نہیں بڑھتا۔
- زیادتی کا نقصان: اگر نائٹروجن ضرورت سے زیادہ دی جائے تو پودا صرف پتے بناتا رہتا ہے، آلو دیر سے بنتے ہیں، ان میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور سٹوریج کے دوران آلو جلدی سڑ جاتے ہیں۔
ب) فاسفورس (Phosphorus – P)
فاسفورس جڑوں کی نشوونما، توانائی کے تبادلے (ATP) اور آلو کے نئے ٹیوبرز (Tubers) بننے کی شروعات کے لیے سب سے اہم عنصر ہے۔
- اہمیت: یہ پودے کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور جڑوں کے جال کو مٹی میں پھیلاتا ہے تاکہ دیگر خوراک آسانی سے جذب ہو سکے۔
- کمی کا نقصان: جڑیں کمزور رہ جاتی ہیں، فی پودا آلو کی تعداد انتہائی کم ہو جاتی ہے اور پودے کا رنگ گہرا سبز یا جامنی ہو جاتا ہے۔
ج) پوٹاشیم (Potassium – K)
آلو کی فصل کے لیے پوٹاشیم کو “کوالٹی ایلیمنٹ” کہا جاتا ہے۔ آلو کے پودے کو نائٹروجن سے بھی زیادہ پوٹاشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
- اہمیت: یہ پتوں میں بننے والے نشاستے (Starch) اور شکر کو زمین کے نیچے آلو کے اندر منتقل کرتا ہے۔ یہ آلو کا سائز بڑا کرتا ہے، اس کے چھلکے (Skin) کو مضبوط بناتا ہے اور آلو کو پھٹنے سے بچاتا ہے۔
- کمی کا نقصان: آلو کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے، اس کی شیلف لائف (سٹوریج کی مدت) کم ہو جاتی ہے اور کٹائی کے دوران آلو پر کالے دھبے پڑ جاتے ہیں۔
د) ثانوی اور مائیکرو نیوٹرینٹس (Secondary & Micronutrients)
- سلفر (Sulfur): آلو کے چھلکے کی چمک (Skin Finish) بڑھاتا ہے اور مٹی کی پی ایچ (pH) کو کم کر کے دیگر کھادوں کی افادیت بڑھاتا ہے۔ یہ فنگس کے حملے کو بھی روکتا ہے۔
- کیلشیم (Calcium): آلو کے اندرونی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے اور اسے اندر سے کالا یا کھوکھلا ہونے (Hollow Heart) سے بچاتا ہے۔
- بوران (Boron): خلیات کی تقسیم اور شکر کی منتقلی میں مدد کرتا ہے۔ اس کی کمی سے آلو کے اندر دراڑیں (Cracking) پڑ جاتی ہیں۔
- زنک (Zinc): پودے کے ہارمونز کو متحرک کرتا ہے اور پتوں کے سائز کو بہتر بناتا ہے۔
۲. مرحلہ وار کھاد کا تفصیلی شیڈول (فی ایکڑ حساب)

آلو کی فصل عام طور پر ۱۰۰ سے ۱۲۰ دن کی ہوتی ہے۔ اس دوران کھاد کو مختلف مراحل میں تقسیم کر کے دینا ہی بہترین نتائج دیتا ہے۔
مرحلہ ۱: زمین کی تیاری اور بوائی کا وقت (Basal Dressing)
آلو کی بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے دوران دی جانے والی کھادیں مٹی کی ساخت کو بہتر بناتی ہیں اور جڑوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ پیدا کرتی ہیں۔
- نامیاتی گوبر کی کھاد:
- آلو لگانے سے کم از کم ایک ماہ پہلے ۱۲ سے ۱۵ ٹن اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد یا کمپوسٹ فی ایکڑ ڈال کر مٹی میں ملا دیں۔
- اہم تنبیہ: کبھی بھی کچی یا تازہ گوبر کی کھاد نہ ڈالیں، کیونکہ اس سے دیمک، سکیرب بیٹل (White Grub) اور آلو پر خارش (Scab) کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
- کیمیائی کھاد کا فارمولا (بوائی کے وقت مٹی میں ملائیں):
- ڈی اے پی (DAP): ۱.۵ سے ۲ بوری (یا ۳ بوری سنگل سپر فاسفیٹ – SSP)۔
- پوٹاشیم سلفیٹ (SOP): ۱ بوری (۵۰ کلوگرام)۔
- امونیم سلفیٹ: ۱ بوری (یہ یوریا سے بہتر ہے کیونکہ اس میں موجود سلفر زمین کو تیزابی بناتا ہے جو آلو کے لیے سازگار ہے)۔
- زنک سلفیٹ (33%): ۱۰ کلوگرام۔
- بوریکس (Borax): ۳ سے ۵ کلوگرام (بوران کی کمی دور کرنے کے لیے)۔
مرحلہ ۲: پہلی آبپاشی اور مٹی چڑھانے کا وقت (Earthing-up Stage)
بوائی کے تقریباً ۳۰ سے ۳۵ دن بعد، جب پودے زمین سے باہر نکل کر ۱۰ سے ۱۲ انچ کے ہو جاتے ہیں، تو ان پر مٹی چڑھائی جاتی ہے۔ اس وقت پودے کی نائٹروجن کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
- کھاد کی مقدار اور طریقہ:
- یوریا (Urea): ۱.۵ بوری فی ایکڑ۔
- ہیومک ایسڈ (Humic Acid): ۸ کلوگرام (اسے پانی کے ساتھ فلڈ کریں یا کھاد کے ساتھ ملا کر چھٹا دیں)۔ ہیومک ایسڈ مٹی کو بھربھرا رکھتا ہے جس سے آلو آسانی سے پھیلتا ہے۔
- طریقہ کار: کھاد کو کھیل کے دونوں اطراف (تنے سے تھوڑا دور) ڈالیں اور اس کے فوری بعد مٹی چڑھا دیں (Earthing-up) اور ہلکی آبپاشی کریں۔
مرحلہ ۳: آلو بننے کا مرحلہ (Tuber Initiation – 45 سے 50 دن)
یہ آلو کی زندگی کا سب سے حساس مرحلہ ہے۔ اس وقت پودے کی زیرِ زمین جڑوں پر چھوٹے چھوٹے مٹر کے دانے کے برابر آلو بننا شروع ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر نائٹروجن کی زیادتی نقصان دہ اور پوٹاش کی موجودگی لازمی ہے۔
- کھاد کی مقدار:
- پوٹاشیم سلفیٹ (SOP – پانی میں حل پذیر): ۲۵ سے ۵۰ کلوگرام فی ایکڑ پانی کے ساتھ فلڈ کریں۔
- کیلشیم امونیم نائٹریٹ (CAN): آدھی بوری (۲۵ کلوگرام)۔ یہ کھاد پودے کو فوری نائٹروجن کے ساتھ ساتھ کیلشیم فراہم کرتی ہے جو آلو کے چھلکے کو مضبوط بناتا ہے۔
مرحلہ ۴: آلو کے سائز میں اضافے کا مرحلہ (Tuber Bulking – 60 سے 80 دن)
اس مرحلے پر پودے کے اوپر کے پتے اپنی پوری بڑھوتری مکمل کر چکے ہوتے ہیں اور اب ان کا کام صرف نیچے موجود آلوؤں کو بڑا کرنا ہوتا ہے۔
- کھاد کی مقدار:
- پوٹاشیم سلفیٹ (SOP): ۲۵ کلوگرام فی ایکڑ (فلڈ گریڈ) دوبارہ پانی کے ساتھ فلڈ کریں۔
- اس مرحلے پر مٹی میں نائٹروجن کھاد ڈالنا بالکل بند کر دیں، ورنہ آلو کا سائز نہیں بڑھے گا بلکہ پودے کی اوپر کی جھاڑی ہی بڑی ہوتی رہے گی۔
۳. فولیار سپرے (Foliar Sprays) کا شیڈول

پتوں پر کھادوں کا سپرے کرنا آلو کی فصل میں خوراک کی کمی کو فوری طور پر دور کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ ذیل کا سپرے شیڈول پیداوار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے:
[بوائی کے 40-45 دن] ──> NPK (19:19:19) + چلیٹڈ زنک (پتوں کی صحت اور نشوونما کے لیے)
[بوائی کے 60-65 دن] ──> پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) + بوران (آلو کا سائز بڑھانے اور پھٹنے سے بچانے کے لیے)
[بوائی کے 75-80 دن] ──> کیلشیم + امینو ایسڈز (آلو کی چمک اور سٹوریج لائف بہتر کرنے کے لیے)
- پہلا سپرے (بوائی کے ۴۰ سے ۴۵ دن بعد):
- کھادیں: ۵۰۰ گرام NPK (19:19:19) اور ۱۰۰ گرام چلیٹڈ زنک (Chelated Zinc) فی ۱۰۰ لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ یہ پودے کو متوازن خوراک دے کر پیلا ہونے سے بچاتا ہے۔
- دوسرا سپرے (بوائی کے ۶۰ سے ۶۵ دن بعد):
- کھادیں: ۱ کلوگرام پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) اور ۲۰۰ گرام بوران (Solubor) فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ یہ آلو کا سائز بڑھانے اور اس کی اندرونی کوالٹی کے لیے جادوئی اثر رکھتا ہے۔
- تیسرا سپرے (بوائی کے ۷۵ سے ۸۰ دن بعد):
- کھادیں: کیلشیم اور امینو ایسڈز کا سپرے کریں۔ امینو ایسڈ پودے کو درجہ حرارت کے تناؤ (کورا یا گرمی) سے بچاتا ہے اور کیلشیم آلو کی چمکدار رنگت کو یقینی بناتا ہے۔
۴. آلو کی کاشت میں عام غلطیاں اور ان کے نقصانات
کاشتکار اکثر کھادوں کے استعمال کے دوران کچھ ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے ان کا خرچہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور پیداوار بھی گھٹ جاتی ہے۔
۱. یوریا کھاد کا دیر سے استعمال
سب سے عام غلطی بوائی کے ۶۰ دن بعد بھی یوریا کا استعمال ہے۔ اس سے پودا سبز تو رہتا ہے لیکن زمین کے اندر آلو کا سائز نہیں بڑھتا اور وہ کچے رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ نائٹروجن کھاد کا استعمال بوائی کے ۵۰ دن کے اندر مکمل کر لیں۔
۲. کلورائیڈ والی پوٹاش کا استعمال
پوٹاشیم کی دو اقسام مارکیٹ میں دستیاب ہیں: پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) اور پوٹاشیم کلورائیڈ (MOP)۔ آلو کی فصل کلورین کے لیے بہت حساس ہے۔ موریٹ آف پوٹاش (MOP) کا استعمال آلو میں نشاستے (Starch) کی مقدار کو کم کر دیتا ہے، جس سے آلو اندر سے پانی دار ہو جاتا ہے اور ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ سلفیٹ فارم (SOP) ہی استعمال کریں۔
۳. مائیکرو نیوٹرینٹس کو نظرانداز کرنا
صرف ڈی اے پی اور یوریا پر بھروسہ کرنا اور بوران یا زنک نہ ڈالنا آلو کی کوالٹی خراب کرتا ہے۔ بوران کی کمی سے آلو کے اندر سیاہ دھبے اور دراڑیں پڑ جاتی ہیں جو مارکیٹ میں کم ریٹ پر بکتا ہے۔
۵. بہتر پیداوار کے لیے پانی اور کھاد کا باہمی تعلق
آلو کی فصل میں کھاد کا اثر تبھی ہوتا ہے جب پانی کا انتظام درست ہو۔ آلو کی جڑیں زیادہ گہری نہیں ہوتیں، اس لیے اسے ہلکے لیکن بار بار پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- پانی کا اتار چڑھاؤ: اگر کھیت بہت زیادہ خشک ہو جائے اور پھر آپ بھر کر پانی دے دیں، تو آلوؤں کے پھٹنے (Tuber Cracking) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
- کھیلیوں کی اونچائی: کھیلیاں اتنی اونچی ہونی چاہئیں کہ پانی کبھی بھی پودے کے تنے کو نہ چھوئے، بلکہ صرف نمی کھیل کے اوپر تک پہنچے۔ اس سے آلو فنگس سے محفوظ رہتے ہیں اور کھادیں ضائع نہیں ہوتیں.
حاصل کلام (Conclusion)

آلو کی بہتر اور منافع بخش پیداوار حاصل کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، بلکہ یہ صرف کھادوں کے درست انتخاب اور صحیح وقت پر استعمال کا نام ہے۔ بوائی کے وقت فاسفورس اور نامیاتی کھادوں سے جڑوں کو مضبوط کریں، ۳۰ سے ۵۰ دن کے دوران نائٹروجن سے پودے کا قد کاٹھ بنائیں، اور ۵۰ دن کے بعد سارا زور پوٹاشیم، کیلشیم اور بوران پر لگائیں تاکہ آلو کا سائز، وزن اور چمک بہترین ہو۔ ان سائنسی اصولوں پر عمل کر کے ہمارے کاشتکار اپنی فی ایکڑ پیداوار کو روایتی طریقوں کے مقابلے میں ۴۰ فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔
س ۱: آلو کی فصل کے لیے سب سے بہترین پوٹاش کون سی ہے اور اسے کب دینا چاہیے؟
جواب: آلو کے لیے پوٹاشیم سلفیٹ (SOP) سب سے بہترین کھاد ہے۔ اس کی پہلی قسط (آدھی مقدار) بوائی کے وقت مٹی میں ملائیں اور باقی آدھی مقدار بوائی کے ۴۵ سے ۶۵ دن کے دوران دو اقساط میں پانی کے ساتھ فلڈ کریں۔
س ۲: آلو کا چھلکا کمزور کیوں رہ جاتا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟
جواب: آلو کا چھلکا (Skin) کمزور ہونا کیلشیم کی کمی اور کٹائی سے پہلے زیادہ پانی دینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آلو کا چھلکا مضبوط کرنے کے لیے مٹی چڑھاتے وقت کیلشیم امونیم نائٹریٹ (CAN) دیں اور کٹائی سے ۱۵ دن پہلے پانی بالکل بند کر دیں۔
س ۳: کیا آلو کی فصل میں یوریا کھاد کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر یوریا کھاد بوائی کے ۵۵ دن کے بعد دی جائے تو یہ پودے کی اوپری شاخوں کو بڑھاتی رہتی ہے اور زمین کے نیچے آلو بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یوریا کا استعمال ہمیشہ بوائی کے پہلے ۵۰ دنوں کے اندر مکمل کر لینا چاہیے۔
س ۴: آلو کو پھٹنے (Tuber Cracking) سے کیسے بچایا جائے؟
جواب: آلو کو پھٹنے سے بچانے کے لیے بوائی کے وقت مٹی میں بوران کا استعمال یقینی بنائیں اور پودے پر ۶۰ویں دن بوران کا سپرے کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی دینے کے وقفوں کو متوازن رکھیں اور مٹی کو زیادہ خشک نہ ہونے دیں۔
س ۵: سلفر کا آلو کی پیداوار میں کیا کردار ہے؟
جواب: سلفر مٹی کی پی ایچ کو کم کرتا ہے، جس سے فاسفورس اور دیگر مائیکرو نیوٹرینٹس پودے کے لیے آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ آلو کو کالی خارش (Common Scab) سے بھی بچاتا ہے اور چھلکے کی چمک بڑھاتا ہے۔

منابع
کارشناسان کشاورزی
سایت تتاکو


بدون نظر